کوئٹہ میں انسداد پولیو مرکز پر خودکش حملہ، 14 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہلاک ہونے والوں میں 13 پولیس اور ایک ایف سی اہلکار شامل ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک خود کش بم حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکہ بدھ کی صبح سیٹلائٹ ٹاؤن کے علاقے میں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے مرکز کے ساتھ ہوا۔

ہلاک ہونے والے تمام افراد سکیورٹی اہلکار تھے جو بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں کی سکیورٹی پر مامور تھے۔

کوئٹہ دھماکے کی تصاویر

ڈی آئی جی آپریشنز کوئٹہ سید امتیاز شاہ نے صحافیوں کو بتایا کہ دھماکہ خودکش تھا۔

بلوچستان کے وزیر میر سرفراز بگٹی نے جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب اس علاقے سے پولیو کی ٹیمیں بچوں کو قطرے پلانے کے لیے روانہ ہونے کی تیاری کررہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں 14 افراد ہلاک ہوئے جن میں پولیس کے 13 اہلکاروں کے علاوہ ایف سی کا ایک اہلکار شامل ہے۔

زخمیوں کو فوری طور پر سول ہسپتال کوئٹہ پہنچایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ

سول ہسپتال کوئٹہ کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر عبدالرحمان میاں خیل نے بتایا کہ مجموعی طور پر 25 زخمیوں کو سول ہسپتال لایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ پولیس اور ایف سی کے اہلکار اس علاقے میں پولیو کی ٹیموں کو سیکورٹی کی فراہمی کے لیے جمع ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں پولیس کے تین انسپیکٹرز اور چار سب انسپکٹرز بھی شامل تھے۔

سول ہسپتال میں ایک زخمی پولیس اہلکار نے بتایا کہ وہ وہاں کھڑا تھا کہ زور دار دھماکہ ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ جب وہ اپنی گاڑی کی جانب گئے تو وہاں دیکھا کہ ان کے دو ساتھی نیچھے پڑے ہوئے تھے۔

دھماکے میں پولیس اور ایف سی کی دو گاڑیوں ، ایک رکشے کے علاوہ چار دکانوں کو بھی نقصان پہنچا

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف اور صدر مملکت ممنون حسین نے کوئٹہ دھماکے کی مذمت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

خیال رہے کہ پاکستان میں انسداد پولیو ٹیموں اور ان کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر ماضی میں بھی حملے ہوتے رہے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق دسمبر 2012 سے لے کر اب تک انسداد پولیو ٹیموں پر ہونے والے حملوں میں 80 کے قریب افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

گذشتہ سال 2015 میں سنہ 2014 کے مقابلے میں انسداد پولیو ٹیموں اور ان کی سکیورٹی پر تعینات پولیس اہلکاروں پر حملوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔

سنہ 2014 میں پاکستان میں پولیو کے 306 کیس سامنے آئے تھے اور حکام کی جانب سے اس کی وجہ انسداد پولیو ٹیموں پر ہونے والے حملوں کو قرار دیا گیا۔

اسی بارے میں