سندھ کے بلدیاتی نمائندوں کی حلف برداری

Image caption کراچی میں منتخب بلدیاتی نمائندوں نے جمعرات کو اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا

پاکستان کےصوبہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات میں منتخب ہونےوالے نمائندوں نے حلف اٹھا لیا۔ حلف اٹھانے والوں یونین کونسلر، میونسپل اور ضلع کونسل کے اراکین شامل تھے۔

کراچی میں حلف برداری کی تقریبات میں 1,520 منتخب بلدیاتی نمائندوں نے جمعرات کو اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔

’سپریم کورٹ نے انتخابات کروائے وہی اختیارات دلوائے‘

کراچی کے نامزد میئر سمیت پانچ کے وارنٹ جاری

ان نمائندوں میں 988 کونسلرز، 247 چیئرمین، 247 وائس چیئر مین اور 38 ڈسٹرکٹ کونسلرز شامل ہیں۔

کراچی کی ایک میونسپل، چھ ڈسٹرکٹ میونسپل اور ایک ضلعی کونسل پر مشتمل 1,500 منتخب ارکان سے حلف لینے کی تقریبات شہر میں چھ مختلف مقامات پرمنقعد ہوئیں۔

ایک ایسی ہی تقریب وفاقی اردو یونیورسٹی میں منعقد ہوئی جہاں ضلع شرقی کی ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشن کے اراکین سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج شبانہ وحید نےحلف لیا۔

کراچی میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں متحدہ قومی موومنٹ نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں، کراچی میونسپل کارپوریشن کے لیے وسیم اختر کو میئر کا امیدوار نامزد کیا گیا تھا۔

منتخب اراکین کے حلف کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وسیم اختر کہنا تھا کہ ابھی اختیارات کی منتقلی کا عمل باقی ہے اور انھیں امید ہے کہ تمام جماعتیں ان کا ساتھ دیں گی۔

’ہم چاہتے ہیں کہ جو آئین کہتا ہے اس کے مطابق اختیارات منتخب اہلکاروں کے سپرد کیے جائیں تاکہ وہ اپنے علاقوں میں عوام کے مسائل حل کرسکیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ ساری جماعتیں اپنے حقوق اوراختیارات کے لیے ہمارا ساتھ دیں گی اور ہم مل کر جدوجہد کریں گےکہ لوکل گورنمنٹ کے منتخب افراد کو اختیارات ملیں۔

گذشتہ بلدیاتی نظام کے برعکس حالیہ بلدیاتی نظام میں ان اداروں کو محدود اختیار دیے گیے ہیں جن میں زیادہ تر صفائی ستھرائی اور گلیوں کی مرمت جیسے اختیارات شامل ہیں۔

Image caption ایم کیو ایم سے منسلک ثنا علی یو سی 29 سے کونسلر منتخب ہوئی ہیں

ایم کیو ایم کےنو منتخب اراکین کا کہنا ہے کہ ان کے علاقوں میں مسائل تو کئی ہیں لیکن اختیارات محدود ہیں۔

ایم کیو ایم سے منسلک ثنا علی یو سی 29 سے کونسلر منتخب ہوئی ہیں۔ انھوں نے کہا ’ہمارے میئر حلف اٹھا لیں تو ہم عدالت جائیں گے، ہم پوری قانونی کاروائی کریں گے‘۔

یو سی 13 سے منتخب جنرل کونسلر محمد اسلم نے کہا ’ہمارے علاقوں میں سیوریج کا نظام خراب ہے، گٹر اُبل رہے ہیں، کوڑا کچرا پڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ پینے کے پانی میں بدبو آ رہی ہے۔ آٹھ سال سے یہ کام ہوئے نہیں ہیں۔ ہمیں منتخب کیا گیا ہے لیکن اختیارات نہیں ہیں۔ سپریم کورٹ نے بلدیاتی انتخابات کاحکم دیا تاکہ ہمیں اختیارات منتقل کیے جائیں لیکن اس میں ہماری حکومت حائل ہو رہی ہے۔‘

کراچی میں بلدیاتی انتخابات میں حکمران پاکستان پیپلز پارٹی نے دوسرے نمبر پر نشستیں حاصل کی ہیں۔ اختیارات کی کمی کا وہ اعتراف تو کرتے ہیں لیکن ان کا مؤقف مبہم ہے۔

یوسی 30 سے پیپلز پارٹی کی لیڈی کونسلر فرزانہ کا مؤقف تھا ’ہم پیپلزپارٹی میں رہ چکے ہیں اور اسی سے کام بھی کروایا ہے۔ ابھی یہ طے نہیں کیا کہ اختیارات کے بارے میں کیا کرنا ہے لیکن دیکھیں گے۔‘

Image caption یو سی 13 سے منتخب جنرل کونسلر محمد اسلم

یوسی 30 سے ہی کامیاب امیدوار شمع فاطمہ زیدی نے اپنے علاقے کے مسائل بتائے لیکن محدوداختیارات کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ’ابھی تو شروعات ہوئی ہے، دیکھیں کوئی بھی کام ایک دم سے سو فیصد تو ہوا نہیں کرتی۔ مسئلے مسائل تو ہیں اور رہیں گے لیکن جب ٹیبل ٹاک ہوگی تو مسئلے حل بھی ہوں گے‘۔

حلف برداری کے بعد یونین کونسل، ضلع کونسل اور میونسپل کارپوریشن کے ارکان اب نوجوانوں، خواتین، مزدور اورکسانوں کی مخصوص نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب کریں گے جس کے بعد ضلعی اور میونسپل چیئرمین اور میونسپل کارپوریشن کے میئر کا انتخاب کیا جائے گا۔

کراچی سمیت پورے سندھ میں تقریبا چھ سال بعد بلدیاتی نظام بحال ہوا ہے۔ فروری سنہ 2010 میں منتخب بلدیاتی اداروں کی میعاد پوری ہونے کے بعد حکومت کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کا انعقاد نہیں کرایا گیا تھا۔

سپریم کورٹ کے حکم پرملک بھر کی طرح کراچی میں بھی بلدیاتی انتخابات کرائے گئے۔

اسی بارے میں