دہشت گردوں کی مالی معاونت کے الزام میں 51 گرفتاریاں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صوبہ سندھ میں بھی مالی معاونت کے الزام میں پانچ افراد حراست میں لیے گئے ہیں

پاکستان میں حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے کے الزام میں ملک بھر سے 51 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

اس سلسلے میں سب سے زیادہ گرفتاریاں حیران کن طور پر گلگت بلتستان کے ضلع دیامر سے ہوئی ہیں جہاں 28 افراد کو دہشت گردوں کو پناہ اور خوراک دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

کیا دہشتگردوں کی مالی معاونت کو روکنا ممکن ہے؟

یہ معلومات ایوان بالا یا سینیٹ کو جمعے کو حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے سینیٹر تنویر خان کے ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ نے مہیا کیں۔

حکومت کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں مجموعی طور پر 41 مقدمات درج کیے گئے ہیں جن میں 57 افراد ملوث تھے لیکن 51 افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔

ان مقدمات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان میں سے 14 میں تحقیقات ابھی جاری ہیں جبکہ 26 میں عدالتوں میں چالان پیش کیے جا چکے ہیں۔

سب سے زیادہ مقدمات گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں درج کیے گئے ہیں جن کو اب حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ ان پر دہشت گردوں کو پناہ دینا اور خوراک مہیا کرنے کا الزام ہے۔

صوبہ سندھ میں بھی مالی معاونت کے الزام میں پانچ افراد حراست میں لیے گئے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں محکمہ انسداد دہشت گردی کو حکم جنوری 2015 سے چار کیس رپورٹ کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں آٹھ افراد کو گرفتار کر کے انسداد دہشت گردی عدالتوں میں چالان پیش کیا جا چکا ہے۔

اس کے علاوہ قبائلی علاقوں، اسلام آباد، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور بلوچستان میں نہ تو کوئی مقدمہ درج ہوا نہ ہی گرفتاری ہوئی۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں حکومت کی جانب سے ماضی میں دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے سلسلے میں کوئی زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

اسی کمزوری کو دہشت گردی کے خاتمے میں بڑی رکاوٹ سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان فوج نے بھی گذشتہ دنوں حکومت سے قومی ایکشن پلان کے تحت اس جانب خصوصی توجہ دینے کی بات کی تھی۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی گذشتہ دنوں میڈیا کو بتایا کہ ڈیڑھ ارب روپے مالیت کے 129 بینک کھاتے بند کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں