سندھ میں کرمنل پراسیکیوشن سروس قانون میں ترمیم منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کرمنل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل کے تحت ریاست اس بات کی مجاز ہوگی کہ وہ انسداد دہشت گردی عدالت سمیت کسی بھی عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے کو ختم کراسکے

پاکستان کے صوبہ سندھ کی اسمبلی نے حزبِ اختلاف کے احتجاج کے باوجود کرمنل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل کثرتِ رائے سے منظور کرلیا ہے۔اس قانون کے تحت سندھ حکومت کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت سمیت کسی بھی عدالت میں زیرِ سماعت مقدمہ ختم کروایا جا سکتا ہے۔

سنیچر کو ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا کی زیر صدارت آج سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے سینئر وزیر نثار کھوڑو نے کرمنل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل ایوان میں پیش کیا۔

سندھ اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف خواجہ اظہارالحسن نے نکتہ اظہار پہ بولنا چاہا تو ڈپٹی اسپیکر نے انھیں اسکی اجازت نہ دی۔جس پرایم کیو ایم کے اراکین نے اپنی نشستوں پر کھڑے ہوکر شدید احتجاج کیا۔

ڈپٹی اسپیکر نے ایم کیو ایم کے رکن سندھ اسمبلی ہیر اسماعیل سوہو اور مسلم لیگ فنکشنل کی رکن نصرت سحر عباسی کو بھی ایوان میں بات کرنے کی اجازت نہیں دی جس پر دونوں اراکین کی ڈپٹی سپیکر کے ساتھ کافی دیر تک بحث چلتی رہی۔

تاہم اسی احتجاج کے دوران ڈپٹی اسپیکر نےاعلان کیا کہ یہ بل کثرتِ رائے سے منظور کرلیا گیا ہے اور سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کی صبح تک ملتوی کردیا گیا۔

اجلاس کے بعد قائدحزبِ اختلاف خواجہ اظہارالحسن نے میڈیا سے بات کرتے ہوئےکہا کہ’حکومت اپنی مرضی کی قراردادیں منظور کرتی ہے چاہے وہ رینجرز کے اختیارات کے حوالے سے ہو یا آج ہنگامی طور پر پیش کیا جانے والا بل۔

انھوں نے کہا کہ ’انکو اپنی پارٹی اور کرپشن بچانے کے لیے جو مقاصد حاصل کرنے ہوتے ہیں اُس پرتو فوری عمل ہوجاتا ہے لیکن عوام کے بنیادی مفادات کے لیے جو قراردادیں پاس ہوتی ہیں انکو نظر انداز کردیا گیا۔‘

پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کی نصرت سحر عباسی نے کرمنل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل کو کالا قانون قرار دیا ۔

انھوں نے کہا کہ ’ آئین کے مطابق جس دن بل پیش کیا جائے اُسی دن اُسی منظور نہیں کیا جا سکتا۔ ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے آپ سمجھ لیجیئے کہ یہ اسمبلی نہیں چل رہی بلکہ ذرداری کی اوطاق ہے۔ اپنی مرضی سے بل پیش اور منظور کیے جاتے ہیں، اپوزیشن کا کوئی وجود نہیں۔‘

واضح رہے کہ کرمنل پراسیکیوشن سروس ترمیمی بل کے تحت ریاست اس بات کی مجاز ہوگی کہ وہ انسداد دہشت گردی عدالت سمیت کسی بھی عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے کو ختم کراسکے۔

اسی بارے میں