پاکستان کی ایران سے تجارت میں اضافے کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption گیس کی حد تک تو ایران سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے مگر خام تیل ماضی میں صرف چند مرتبہ ہی ایران سے منگوایا گیا ہے

پاکستان کے پڑوسی ملک ایران پر عائد بین الاقوامی پابندیاں ختم ہونے کے بعد امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت کو فروغ ملے گا اور حکومت اور نجی شعبہ دونوں اس میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔

پاکستان میں جاری توانائی کے بحران کے خاتمے کے لیے بھی اس سے مدد ملنے کا امکان ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کے علاوہ بھی کئی قسم کی اشیاء درآمد اور برآمد کی جا سکتی ہیں۔

کیا پاکستان ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے سے کوئی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

سات برس بعد پاکستان ایران ٹرین سروس کا دوبارہ آغاز

سابق وزیرِ پیٹرولیم اور قدرتی وسائل عثمان امین الدین کہتے ہیں کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ دو اہم منصوبے تھے ایک پاک ایران کوسٹل آئل ریفائنری اور دوسرا ایران پاکستان گیس پائپ لائن۔

’ان دونوں منصوبے پر کافی کام کیا جاچکا ہے اس لیے دونوں ممالک کا فائدہ اس میں ہے ان منصوبوں کو جلد از جلد مکمل کیا جائے۔‘

عثمان امین الدین نے بتایا کہ گیس کی حد تک تو ایران سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے مگر خام تیل ماضی میں صرف چند مرتبہ ہی ایران سے منگوایا گیا ہے اور ابھی یہ بھی نہیں معلوم کے پاکستانی آئل ریفائنریز ایرانی خام تیل کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں یا نہیں کیونکہ ہر قسم کا خام تیل صاف نہیں کیا جا سکتا۔

چاول اور پھل کی برآمدات

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption ایران اور پاکستان کے درمیان تجارت بڑھنے کا امکان ہے( فائل فوٹو)

معاشی تجزیہ کار محمد سہیل کہتے ہیں کہ ایران پر پابندیوں سے پہلے پاکستان ایران کو چاول اور پھل بشمول خشک میوہ جات برآمد کیا کرتا تھا اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا حجم ایک ارب ڈالر تھا تاہم پابندیوں کی وجہ سے لیٹر آف کریڈٹ ہی نہیں کھولا جاسکتا تھا۔

مرکزی بینک کی جانب سے تمام بینکوں کو سخت ہدایات تھیں۔ تاہم اب سرکاری سطح پر بھی تجارت ممکن ہو سکے گی۔

محمد سہیل کے مطابق بہت سے تاجروں نے پچھلے چند ماہ میں ایران جا کر وہاں کی معیشت کا جائزہ لیا ہے اور جلد ہی اس کا اثر نظر آنے لگے گا۔

پاکستان میں تیل کی مصنوعات کے علاوہ ایران سے درآمد کی جانے والی اشیاء کے بارے میں انھوں نے بتایا کی ایران میں سیمنٹ کی قیمتیں کافی کم ہیں اور پاکستان کے کئی علاقوں میں ایران سے اگر سیمنٹ منگوایا جائے تو سستا پڑے گا، اس کے علاوہ کھانے پینے کی کئی اشیاء ایران سے سمگل ہو کر آتی ہیں جو اب باضابطہ آ سکیں گی۔

محمد سہیل کا کہنا تھا کہ چین میں جاری کساد بازاری کی وجہ سے پاکستان کی کپڑے صنعت کو نقصان پہنچا ہے اور برآمدات کافی متاثر ہوئی ہیں تاہم اب وہ تاجر ایران کی منڈی کا رخ کر سکتے ہیں۔

ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کا اثر پاکستان کی معیشت پر جلد ہی ہونے کی امید ہے کیونکہ دونوں پڑوسی ممالک ہیں تاہم دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی فروغ آمدورفت کے بہتر ذرائع پر بھی منحصر ہے جو ابھی بین الاقوامی معیار کے نہیں ہیں۔

اسی بارے میں