’امریکی صدر کے بیان کو پاکستانی حکومت بطور چیلنج لیتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سرتاج عزیز نے کہا کہ کراچی آپریشن اور پھر شدت پسندوں کے خلاف ضرب عضب کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں

وزیر اعظم پاکستان کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما کے آئندہ کئی دہائیوں تک پاکستان کے عدم استحکام ہونے سے متعلق خدشات درست نہیں ہیں۔

پیر کے روز پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حزب مخالف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے امریکی صدر براک اوباما کی طرف سے پاکستان کے بارے میں جاری کیے گئے بیان پر تحریک التوا پیش کی جس کا جواب دیتے ہوئے سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستانی حکومت امریکی صدر کے بیان کو بطور چیلنج لیتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے 12 جنوری کو سٹیٹ آف دی یونین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ شدت پسندی کی وجہ سے پاکستان عدم استحکام کا شکار رہےگا۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان گذشتہ تین دہائیوں سے شدت پسندی کا شکار رہا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں پاکستان کا تشخص خراب ہوا اور ملک عدم استحکام کا شکار ہوا۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ اور اتحادی ملکوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے خطے میں عدم استحکام رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ ڈھائی سالوں سے خارجہ اور ملکی سلامتی سے متعلق پالیسیوں میں تبدیلی لائی گئی ہے جس کے مثبت اثرات دکھائی دے رہے ہیں۔

سرتاج عزیز نے کہا کہ سنہ 2013 میں کراچی آپریشن اور پھر شدت پسندوں کے خلاف ضرب عضب کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے خلاف عدم برداشت کی پالیسیوں کی وجہ سے گذشتہ برس شدت پسندی کے واقعات میں سنہ 2014 کی نسبتاً 50 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت دیگر ممالک کے معاملات میں عدم مداخلت اور ملکی سلامتی کی صورت حال کو بہتر بنانے کی پالیسی پر کاربند ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکی صدر کا کہنا تھا کہ شدت پسندی کی وجہ سے پاکستان عدم استحکام کا شکار رہےگا

حکمراں اتحاد سے تعلق رکھنے والے سینیٹر صلاح الدین ترمذی نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ پشاور میں آرمی پبلک سکول پر حملہ کرنے والے گروپ کا ماسٹر مائنڈ اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ افغانستان میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

سینیٹر صلاح الدین ترمذی نے کہا کہ اگر پاکستان افغانستان کے معاملات میں عدم مداخلت کی پالیسی پر عمل درآمد کرتا تو اس وقت ملا فضل اللہ پاکستان کے حوالے کیا جا چکا ہوتا۔

اُن کے مطابق آرمی پبلک سکول کے حملوں میں ملوث کچھ افراد کو پھانسیاں دینے سے اس واقعے کا بدلہ نہیں لیا جا سکتا۔

صلاح الدین ترمذی کا کہنا تھا کہ ابھی بھی ملک میں جہاد کے نام پر چندہ مانگا جا رہا ہے اور ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں جن کا مقصد سماج دشمن عناصر کو مضبوط کرنا ہے۔

حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ جب سے پاکستان نے غیر ریاستی عناصر کو استعمال کرنا شروع کیا ہے اس وقت سے ملک عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ مولانا مسعود اظہر کی جماعت جیش محمد کو کالعدم قرار دیا گیا جبکہ دوسری طرف اس جماعت کے سربراہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک کتاب کی رونمائی کی تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کالعدم تنظیم دولت اسلامیہ کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ مولا نا عبدالعزیز کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے اس لیے اُن کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔

اسی بارے میں