دوستی کی قیمت چکانی پڑی

Image caption محبوب شاہ کا تعلق باڑہ خیبر ایجنسی سے تھا

کسے معلوم تھا کہ بعض اوقات دوستی نبھانے کے لیے کتنی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے کہ جان بھی چلی جائے۔ شاید خیبر ایجنسی کے مقامی صحافی محبوب شاہ آفریدی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔

منگل کو خیبر ایجنسی اور پشاور کے سرحد پر ہونے والے مبینہ خودکش حملے میں باڑہ کے مقامی صحافی اور ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس خیبر ایجنسی کے صدر محبوب شاہ آفریدی بھی ہلاک ہوئے۔

مرحوم کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ محبوب شاہ صبح گھر سے نکل کر کارخانو مارکیٹ میں واقع اپنے دفتر کی جانب جا رہے تھے کہ کارخانو پھاٹک پر انھیں جمرور کے خاصہ دار فورس کے لائن افسر نواب شاہ نظر آئے جو وہاں چیک پوسٹ پر ڈیوٹی دے رہے تھے۔

محبوب شاہ گاڑی سے اتر کر وہاں لائن افسر کے ساتھ قریب بیٹھ گئے اور اس دوران خودکش حملہ آور نے آ کر خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے دونوں موقعے ہی پر ہلاک ہو گئے۔

بتایا جاتا ہے کہ محبوب شاہ اور لائن افسر نواب شاہ آپس میں گہرے دوست تھے اور اکثر اوقات دونوں کھانے کے محفلوں میں ملا کرتے تھے۔ محبوب شاہ آج بھی لائن افسر سے علیک سلیک کرنے کےلیے اترے تھے لیکن شاید دونوں کو معلوم نہیں تھا کہ یہ ان کی آخری ملاقات ثابت ہوگی۔

محبوب شاہ کا تعلق باڑہ خیبر ایجنسی سے تھا۔ وہ گذشتہ تقریباً 12 برسوں سے صحافت کے شعبے سے وابستہ تھے اور صحافتی تنظیموں میں کافی سرگرم تھے۔ وہ قبائلی صحافیوں کی تنظیم ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس کے انتہائی سرگرم کارکن رہے ہیں۔

محبوب شاہ ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹس خیبر ایجنسی کے موجود صدر بھی تھے جبکہ وہ ٹی یو جے کے مرکزی جنرل سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں۔

محبوب شاہ قبائلی صحافیوں کی مرکزی تنظیم ٹرائیبل یونین آف جرنلسٹ کے دو دھڑوں میں اختلافات کے خاتمے کے لیے کچھ عرصہ سے کافی سرگرم تھے۔

محبوب شاہ پشاور کے مقامی اردو آخبار روزنامہ آج سے وابستہ تھے جبکہ وہ پارٹ ٹائم ایک نجی ٹی وی چینل کےلیے بھی کام کرتے رہے ہیں۔ مرحوم نے پسماندگان میں بیوہ اور چار بچے سوگوار چھوڑے ہیں۔

اسی بارے میں