خاصہ داروں کی چوکی پر خودکش حملے میں دس ہلاک

Image caption نوجوان حملہ آور نے چیک پوسٹ کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑایا

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی اور پشاور سے ملحق سرحد پر قائم خاصہ دار فورس کی چوکی پر خود کش حملے میں اسسٹنٹ لائن افسر اور قبائلی صحافی سمیت دس افراد ہلاک 23 زخمی ہوئے ہیں۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس حملے کی زمہ داری اپنی تنظیم کی جانب سے قبول کی ہے ۔

منگل کی صبح پشاور میں شدید دھند تھی۔ پشاور سے قبائلی علاقوں اور افغانستان جانے اور پشاور آنے والی گاڑیوں کی لائنیں لگی ہوئی تھیں۔ خاصہ دار چوکی پر ٹریفک پولیس کے اہلکار موجود تھے۔

خاصہ داروں پر خودکش حملہ: تصاویر

پشاور میں فوجی ٹرک کے قریب دھماکہ، دو اہلکار زخمی

حکام کا کہنا ہے کہ ایک نوجوان موٹر سائیکل پر آیا اور سیدھا چیک پوسٹ میں موجود اسسٹنٹ لائن افسر نواب شاہ اور دیگر اہلکاروں کی جانب گیا اور خود کو دھماکے سےاڑا لیا۔

اس چیک پوسٹ میں اس وقت ایک صحافی محبوب آفریدی بھی موجود تھے جو اپنے دفتر آ رہے تھے اور راستے میں نواب شاہ سے ملنے کےلیے چوکی میں چلے گئے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ دھماکے کے بعد ہر طرف دھواں پھیل گیا اور قریب کھڑی گاڑیوں کو آگ لگ گئی تھی۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ وہ سامنے دکان کے اندر تھا کہ اس دوران دھماکہ ہوا وہ سمجھا کہ کسی گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا ہے لیکن باہر نکل کر دیکھا تو یہ قیامت کا منظر تھا، ہر طرف لاشیں اور خون تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق ایک خاتون اور ایک بچے کی لاش سڑک پر پڑی تھی جبکہ ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ جب گاڑیوں میں لگی آگ کو وہ بجھا رہے تھے اس وقت بھی ایک لاش گاڑی میں جلی ہوئی پڑی تھی۔

جس مقام پر دھماکہ ہوا وہاں انسانی اعضا بکھرے پڑے تھے اور بم ناکارہ کرنے والے ادارے کے ایک اہلکار نے بتایا کہ یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ یہ اعضا کس کے ہیں۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ خود کس حملے آور کا سر اور ٹانگیں اس مقام سے ملی ہیں۔

حیات آباد کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس عتیق شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ بظاہر ان کی اطلاع کے مطابق نواب شاہ کو ہی نشانہ بنایاگیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی نواب شاہ پر حملے ہوئے ہیں۔

خاصہ دار چوکی پشاور اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی سرحد پر کارخانو مارکیٹ کے قریب واقع ہے ۔ خال ہی میں خیبر ایجنسی کی طرف جانے والے اس شاہراہ کو مرمت کیا گیا ہے جس کے بعد قبائلی علاقے اورافغانستان جانےوالی اس شاہراہ پر ٹریفک میں اضافہ ہوا ہے۔

اس کے علاوہ صبح کے وقت قبائلی علاقوں سے لوگ کام کی غرض سے پشاور جبکہ پشاور سے قبائلی علاقے کی جانب جاتے ہیں۔ خیبر ایجنسی کے پولیٹکل ایجنٹ شہاب علی شاہ نے صحافیوں کو بتایا کہ اس حملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔اس حملے میں خاصہ دار فورس کے چار اہلکار، ایک صحافی ، ایک خاتون اور ایک بچے سمیت دس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے آج صبح پشاور کے کے قریب ریگی پولیس تھانے کی حدود سے چار افراد اور ڈیرہ اسماعیل خان میں یارک کے مقام سے دو افراد کی لاشیں ملی ہیں۔ پشاور سے ملنے والے لاشیں قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے چارافراد کی ہیں جن کی عمریں پچیس سے تیس سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کا اہم بازار کوئی چھ سال بعد چند روز پہلےکھولا گیا ہے جبکہ خیبر ایجنسی کے بھی بیشتر علاقوں کو اب شدت پسندوں سے صاف کیا گیا ہے جہاں متاثرین کی واپسی کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔

اسی بارے میں