سندھ میں دس فوجی عدالتوں کا قیام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سندھ میں دہشت گردی کے سنگین مقدمات کے سماعت کے لیے دس فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں

پاکستان کے صوبہ سندھ میں فوجی عدالتیں آئندہ چند روز میں سرگرم ہو جائیں گی، ان عدالتوں میں 25 مقدمات بھیجے جا چکے ہیں جن میں سے تین کا مقدمہ جاری ہے۔

یہ فیصلہ قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے بنائی گئی صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔

کراچی میں رینجرز کے اختیارات مشروط کرنے اور وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ اسمبلی کے اس فیصلے کو مسترد کیے جانے کے بعد ایپکس کمیٹی کا یہ پہلا اجلاس تھا، جس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ، گورنر ڈاکٹر عشرت العباد، کور کمانڈر کراچی نوید مختار اور ڈائریکٹر جنرل رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے شرکت کی۔

صوبائی وزیر اطلاعات مولابخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ گذشتہ گہماگہمی کے بعد یہ اجلاس خوشگوار ماحول میں منعقد ہوا جس میں بامقصد اور نتیجہ خیز بحث مباحثہ کیا گیا اور بالخصوص کراچی آپریشن پر بات چیت ہوئی۔ اس ماحول سے پاکستان اور سندھ کے دشمن مایوس ہوئے ہوں گے۔

مولا بخش چانڈیو نے بتایا کہ اجلاس میں گواہوں کے تحفظ کے لیے دو سو افراد پر مشتمل ایک فورس بنانے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، اس کے علاوہ سیف ہاؤسز بنائے جائیں گے جہاں گواہوں کو رکھا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جمعیت علما اسلام ف کے رہنما خالد محمود سومرو کے قتل کے خلاف جے یو آئی کی جانب سے سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے

سندھ میں دہشت گردی کے سنگین مقدمات کے سماعت کے لیے دس فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں، مولا بخش چانڈیو نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والے چند ہفتوں میں یہ عدالتیں سرگرم ہوجائیں گے ان عدالتوں میں سماعت کے لیے 25 مقدمات بھیجے گئے ہیں جن میں سے تین کا مقدمہ جاری ہے۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما اور سابق سینیٹر خالد محمود سومرو کے قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے مولابخش چانڈیو کا کہنا تھا یہ مقدمے فوجی عدالت میں بھیجا تھا لیکن لیکن سکھر ہائی کورٹ نے اس پر سٹے آرڈر جاری کر دیا ہے اب حکومت کوشش کرے گی کہ اس سٹے کو ختم کرایا جائے۔

یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما خالد محمود سومرو کے قتل کے خلاف جے یو آئی کی جانب سے سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دے چکے ہیں۔

سندھ میں وائرلیس اور انٹرنیٹ کے صارفین کی بھی رجسٹریشن کا فیصلہ کیا گیا ہے، مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ جس طرح سے موبائل فون کی سموں کی رجسٹریشن کی گئی تھیں اب اسی طرح وائی فائی انٹرنیٹ نظام کے صارفین کی رجسٹریشن ہو گی۔

اجلاس میں چین پاکستان اقتصادی راہدری کی حفاظت کے لیے دو ہزار لوگوں پر مشتمل فورس بنائی گئی ہے۔ صوبائی مشیر اطلاعات بریفنگ میں بتایا کہ ان اہلکاروں کی بھرتی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان چین اقتصادی راہدری کا ایک حصہ صوبہ سندھ کے علاقے رتودیرو اور شہدادکوٹ سے بھی گزرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اجلاس میں کراچی آپریشن پر بھی بات چیت ہوئی

صوبائی ایپکس کمیٹی نے سندھ محکمہ جیل خانہ جات میں بھرتی، امیدواروں کی ایجنسیوں سے کلیئرنس سے مشروط کر دیا ہے۔ صوبائی مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے بتایا کہ پراسیکیوشن میں حالیہ ترمیم کا اجلاس میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔

واضح رہے کہ سندھ پراسیکیوشن ایکٹ میں حالیہ ترمیم کے مطابق سندھ حکومت مجاز عدالت کی اجازت سے دہشت گردی سمیت کسی بھی مقدمے کی سماعت دوران مقدمہ ختم کر سکتی ہے۔ اس قانون کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیا گیا ہے۔

صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں کراچی سٹاک ایکسچینج کے نامور سرمایہ کار عقیل کریم ڈیڈی پر عائد الزامات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ 2010 اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیٹیوشن نے اے کے ڈی کی اس ریسرچ کی بنیاد پر ایمٹکس نامی ٹیکسٹائل کمپنی کے 35 کروڑ روپے کی مالیت کے شیئرز کی خریداری کی۔ اس خریداری سے ادارے کو 29 کروڑ روپوں کا نقصان ہوا تھا۔

ایف آئی کا دعویٰ ہے کہ اے کے ڈی کی ریسرچ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ایمٹکس کے فی شیئر کا اجرا 19 روپے میں ہو گا لیکن فی شیئر ڈھائی روپے میں جاری ہوا ہے۔

اسی بارے میں