دہشت گردوں کی ٹوٹی کمر کا ایکسرے کہاں ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption باچا خان یونیورسٹی پر بدھ کی صبح مسلح شدت پسندوں کے حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے ہیں

کسی ستم ظریف نے فیس بک پر آج ہی ایک جملہ لکھا ہے کہ ’مان لیا دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ اب تو ہمیں اس کمر کا ایکسرے دکھا دیں!‘

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں میں نائن الیون کے بعد سے اب تک طالبان کے دہشت گرد حملوں اور فوجی آپریشنز کے دوران چار ہزار کے لگ بھگ سکولوں کی عمارتیں کلی یا جزوی طور پر تباہ ہوئیں۔

اس کے بعد نائجیریا ہے جہاں بوکو حرام کے دہشت گردوں نے تقریباً ایک ہزار سکولوں کی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔

اعداد و شمار کا تجزیہ کرنے والے رانا محمد عثمان نے امریکی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے گلوبل ٹیررازم ڈیٹا بیس کے مطالعے سے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ گذشتہ 45 برس کے دوران تعلیمی اداروں پر سب سے زیادہ مسلح حملے (1436) جنوبی ایشیا میں ہوئے۔

ان میں سے 60 فیصد حملے (734) پاکستان میں ہوئے اور ان میں سے 96 فیصد حملے2013 اور 2004 کے درمیان ہوئے ہیں۔

جنوبی ایشیا کے بعد تعلیمی اداروں پر مسلح حملوں کا سب سے بڑا نشانہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک بنے۔ ان میں عراق اور شام سرِ فہرست ہیں جبکہ افریقہ میں تعلیمی اداروں پر حملوں کی سب سے زیادہ افتاد نائجیریا پر ٹوٹی۔

پچھلے 45 برس میں سب سے زیادہ سکولی ہلاکتیں بھی پاکستان میں (ساڑھے چار سو سے زائد) ہوئیں۔اس کے بعد روس کا نمبر آتا ہے۔ تعلیمی اداروں کے خلاف دہشت گردی کی 75 فیصد عالمی وارداتوں میں خود کار اسلحہ، بم اور بارود استعمال ہوا۔

پاکستان میں تعلیمی اداروں پر سب سے زیادہ حملے (208) چھ قبائلی علاقوں میں (مہمند، باجوڑ ، درہ آدم خیل ، اورکزئی ، جنوبی وزیرستان، خیبر ایجنسی ) اور 130 حملے خیبر پختونخواہ کے شہری علاقوں (پشاور، بنوں، چار سدہ، کبل) میں ہوئے۔

اگر کسی ایک بڑے شہر کو دیکھا جائے تو سب سے زیادہ نشانہ پشاور اور مضافات کے تعلیمی ادارے بنے۔ اس کے بعد کراچی کا نمبر آتا ہے جہاں 42 تعلیمی اداروں پر مسلح حملے ہوئے ہیں جبکہ کوئٹہ میں26 تعلیمی ادارے حملوں کی زد میں آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہلاک ہونے والوں میں یونیورسٹی کے شعبۂ کیمیا کے ایک پروفیسر اور متعدد طلبہ بھی شامل ہیں

مگر وہ طلبہ جو بعد از سکول دورانِ سفر یا مصروف مقامات پر دہشت گردی کا نشانہ بنے ان کی ہلاکتوں کا تناسب تعلیمی اداروں میں ہونے والی ہلاکتوں سے کہیں زیادہ ہے۔ تاہم یہ کہا جاسکتا ہے کہ پچھلے دس برس میں تعلیمی اداروں سے باہر دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں میں کوئٹہ کے طلبہ و طالبات سرِ فہرست ہیں۔

حالانکہ پچھلے دس برس کے دوران مسلح افواج اور نیم فوجی اداروں ( ایف سی اور رینجرز وغیرہ ) نے اپنی تنصیبات و دفاتر کو محفوظ بنانے پر خصوصی توجہ دی ہے اور اس مقصد کے لیے دفاعی و غیر ترقیاتی بجٹ کا ایک حصہ بھی مختص کیا گیا ہے۔

چین پاکستان اکنامک کوریڈور اگرچہ فی الحال ڈرائنگ بورڈ پر ہے لیکن اس کی ممکنہ تعمیر پر مامور چینی افرادی قوت کے تحفظ کے لیے ایک خصوصی فوجی تنظیم کا ڈھانچہ پیشگی کھڑا ہو چکا ہے۔

لیکن پچھلے دس برس کے دوران دہشت گردوں کے ہاتھوں ہزاروں تعلیمی اداروں کی بربادی بالخصوص آرمی پبلک سکول کے سانحے کے بعد نئی پود کو بچانے کے لیے نینشل ایکشن پلان میں کیا خصوصی ترجیحات رکھی گئیں؟ شاید ایک بھی نہیں۔

آرمی پبلک اسکول کے سانحے کے بعد چاروں صوبوں میں تعلیمی اداروں کے اضافی تحفظ کے لیے سینکڑوں حکم نامے، سرکلرز ضرور نکلے، خاردار تاروں کی فروخت میں بھی کچھ عرصے کے لیے خاصا اضافہ ہوا، بہت سے تعلیمی اداروں کی دیواریں بھی دو سے تین فٹ تک اونچی ہوئیں۔

جہاں گیٹ پر ایک پرائیویٹ محافظ اونگھتا تھا، اب دو اونگھتے ہیں۔ اور ان ’حفاظتی اقدامات‘ کا زیادہ تر بوجھ زیرِ تعلیم بچوں کے والدین کے سروں پر رکھ دیا گیا۔

لیکن پھر وہی ہوا جو ہوتا آیا ہے۔ پھرتیاں اور آنیاں جانیاں دم توڑتی چلی گئیں اور یہ فرض کر لیا گیا کہ اب تب دیکھیں گے جب نیا سانحہ ہوگا۔

اور آج باچا خان یونیورسٹی کی شکل میں وہ نیا سانحہ ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس سے قبل پشاور میں آرمی پبلک سکول پر بھی دہشت گردوں نے حملہ کر کے 140 افراد کو ہلاک کر دیا تھا

یہ تو دہشت گردوں کی مہربانی ہے کہ وہ پچھلی طرف سے پھلانگ کر اندر آئے۔ چاہتے تو صدر دروازے سے بھی باآسانی داخل ہو سکتے تھے۔

اصل نیشنل ایکشن پلان وہ ہوگا جس میں کچھ خاص عمارتوں اور خاص آدمیوں کو عام عمارتوں اور عام آدمی سے بدلا جائے گا۔

جاپان کی ہوکائدو ریلوے کمپنی نے تین برس پہلے کامی تیراکی ریلوے سٹیشن کے لیے اپنی سروس غیر منافع بخش ہونے کی بنا پر بند کرنے کا فیصلہ کیا۔

مگر پھر یہ فیصلہ ملتوی کر دیا گیا کیونکہ اس سٹیشن سے ایک بچی اسکول جاتی آتی ہے۔ اب ایک ٹرین صبح سات بج کے پانچ منٹ پر صرف اس کم سن مسافر کے لیے آتی ہے اور پھر شام پانج بجے اسے واپس لاتی ہے۔

اس بچی کا تعلیمی سال مارچ میں مکمل ہو جائے گا اور 26 مارچ کے بعد کامی تیراکی ریلوے اسٹیشن کے لیے ہوکائدو ریلوے کی ٹرین سروس بھی بند ہو جائے گی۔

اتنی مشکل سے پالتی ہیں کچھ قومیں اپنے طلبہ کو۔۔۔

(شاید جاپان جیسے ممالک کو کبھی ضربِ عضب کی ضرورت نہ پڑے)

اسی بارے میں