’خوف کے مارے چھلانگ لگا دی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یونیورسٹی میں آج ایک مشاعرے کا انعقاد بھی کیا جا رہا تھا

ایک سال اور ایک ماہ قبل پشاور کےآرمی پبلک سکول پر حملے کے نتیجے میں سکول اور کالج کے بچوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ آج خیبر پختونخوا ہی میں ایک اور تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

یونیورسٹی کے نوجوان طالب عملوں میں سے بہت سے ایسے تھے جنھوں نے بالائی منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی جان بچائی اور زخمی ہوگئے۔ چند ایسے تھے جو پشاور سکول کے بچوں کی مانند کلاسوں میں موجود میزوں کے نیچے یا پھر اپنے کمروں میں چھپ گئے۔

چند عینی شاہدین نے حملے کے بعد باچا خان یونیورسٹی کے باہر موجود میڈیا سے گفتگو کی۔

ایک طالب علم نے بتایا کہ حملہ آوروں نے پہلا فائر سکیورٹی اہلکاروں پر کیا اور اس وقت وہ خود بھی قریب ہی موجود تھے۔

’ہم نے کہا بھاگو یار یہ تو دہشت گرد آ گئے ہیں۔ پھر بس پتہ نہیں۔۔۔ہم نے کچھ نہیں دیکھا۔ ہم نے ان کے قدموں کی آوازیں سنیں اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے جو وہ نعرے لگا رہے تھے وہ بھی سنے۔۔۔ایک سپرنٹینڈنٹ اور ایک دوسرا لڑکا تھا، ہم میز کے نیچے چھپ گئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption پولیس کا کہنا ہے کہ شدید دھند کے باعث حملہ آور یونیورسٹی میں آنے میں کامیاب ہوئے

یونیوسٹی میں موجود ایک دوسرے عینی شاہد نے بھی دہشت گردوں کو فائرنگ کرتے دیکھا۔ بقول ان کے وہ بہت ماہرانہ انداز میں فائرنگ کر رہے تھے۔

’ہم جیسے ہی یونیوسٹی میں داخل ہوئے، یونیوسٹی کے داہنی طرف سے چار افراد فائرنگ کرتے ہوئے ہماری طرف آئے۔ پھر اندر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے بھی ان پر فائرنگ کی۔ جب وہ آخری عمارت میں چلے گئے تو ہم آفس گئے اور وہیں بیٹھ گئے۔ بہت زیادہ فائرنگ ہو رہی تھی۔‘

طالب علموں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی آوازوں نے وہاں موجود افراد کو انتہائی خوفزدہ کر دیا تھا۔

حملے کی صورت حال کے بارے میں بتاتے ہوئے ایک طالب کا کہنا تھا کہ ’میرا دوست اتنا خوفزدہ ہوا کہ وہ یونیورسٹی کی عمارت سے کود کیا۔ ہم نے دیکھا کہ دہشت گرد یہاں تکبیر کے نعرے لگا رہے تھے۔‘

کچھ طلبہ کا کہنا تھا کہ پہلے تو انھیں لگا کہ یونیوسٹی میں کوئی جھگڑا ہو گیا ہے۔ مگر پھر گولیوں کی مسلسل آوازوں سے انھیں حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طالب علموں کا کہنا ہے کہ فائرنگ کی آوازوں نے وہاں موجود افراد کو انتہائی خوفزدہ کر دیا تھا

’یونیورسٹی کے عقبی حصے سے فائرنگ کی آوازیں آئیں، ہم نے کہا کسی کا جھگڑا ہوا ہے۔ مگر جب فائرنگ زیادہ ہو گئی تو ہم نے سارے لڑکوں کو کہا کہ وہ کمروں سے باہر نہ نکلیں۔ ہماری یونیورسٹی کے سکیورٹی والوں اور پاکستان آرمی نے ان کا بھرپور مقابلہ کیا۔‘

عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ انھوں نے دہشت گردوں کو یونیورسٹی کی چھت سے فائرنگ کرتے دیکھا اور دھماکوں کی آوازیں سنیں۔

’میں نے خود تین دہشت گردوں کو دیکھا۔ ایک چھت سے فائرنگ کر رہا تھا۔ ایک ہاسٹل نمبر ون کے پاس تھا۔ میں نے یونیورسٹی کے چار زخمی سکیورٹی گارڈوں کو دیکھا اور انھیں اٹھایا اور ایمبولینسوں میں ڈالا۔‘

’ تقریباً دو دھماکے میں نے خود سنے، وہ ہاسٹل نمبر 1 کی طرف ہوئے۔ پتہ نہیں خودکش تھے، گرینیڈ تھے یا کیا تھا، مگر میں نے وہاں سے دھواں اٹھتا دیکھا۔‘

باچا خان یونیورسٹی میں دہشت گروں کے حملے میں زخمی ہونے والے سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے طالب علم کامل خان نے بی بی سی کی

نالینا ایگرٹ کو بتایا ہے کہ حملہ آور داعش( دولتِ اسلامیہ) زندہ آباد کے نعرے لگا رہے تھے۔

کامل خان کے مطابق حملہ آور داعش زندہ آباد کے نعرے لگا رہے تھے۔’ وہ چیخ رہے تھے کہ سب کو مار دیں، ہر ایک کو مار دیں، ماروں۔۔۔ ماروں۔‘

اسی بارے میں