’اسے چھوڑیں، آپ میرا بیان نشر کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یونیورسٹی پر حملے میں 20 افراد ہلاک ہوئے جبکہ چار دہشت گرد مارے گئے

چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان درہ آدم خیل نے تو قبول کر لی لیکن ان کی مرکزی قیادت نے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ تو آخر یہ ماجرا کیا ہے؟

کیا درہ آدم خیل گروپ اب مرکزی تنظیم سے آزاد ہو چکا ہے؟ کیا یہ اعلان تحریک طالبان کی مرکزی قیادت سے اس گروپ کی ناراضی کا پتہ دیتا ہے؟ کالعدم تحریک طالبان پاکستان، درہ آدم خیل کے خلیفہ عمر منصور کون ہیں جنھوں نے ذمہ داری قبول کی ہے؟

باچا خان یونیورسٹی پر حملہ: کب کیا ہوا؟

یونیورسٹی پر حملے میں 20 ہلاکتیں، قومی سوگ کا اعلان

دہشت گردوں کی ٹوٹی کمر کا ایکسرے کہاں ہے؟

صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں قائم باچا خان یونیورسٹی پر ہونے والے شدت پسندوں کے حملے میں کم سے کم 20 افراد ہلاک اور 20 سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

پہلے پہل درہ آدم خیل کی جانب سے میڈیا سے رابطہ کر کے بتایا گیا کہ چار خودکش حملہ آور روانہ کیے گئے تھے۔ اس سے میڈیا نے یہ تاثر لیا کہ شاید یہ تحریک طالبان کی ہی کارروائی ہے۔ لیکن چند گھنٹوں کے بعد تنظیم کے مرکزی ترجمان محمد خراسانی کی جانب سے میڈیا کو وضاحت موصول ہوئی کہ اس حملے سے ان کا کوئی تعلق نہیں، بلکہ جن لوگوں نے ان کی تنظیم کا نام استعمال کیا ہے اس کے خلاف کارروائی بھی کی جائے گی۔

اس کے تھوڑی دیر بعد خلیفہ عمر منصور نے بی بی سی اردو کو فون کر کے اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان درہ آدم خیل کی جانب سے قبول کر لی۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور سکول حملہ فوجیوں کے لیے پیغام تھا جب کہ یہ حملہ سیاسی قیادت کے لیے پیغام ہے۔ ان سے دریافت کیا گیا کہ تحریک طالبان نے تو اس کی تردید کر دی ہے تو انھوں نے کہا ’اسے چھوڑیں، آپ میرا بیان نشر کریں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تحریک طالبان درہ آدم خیل کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی

خلیفہ اختر منصور ہی کے دھڑے نے پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دسمبر 2014 میں بھی حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

لیکن ایک بات جو مختلف ہے وہ اس وقت کی مرکزی تنظیم کا بھی اس حملے کو قبول کرنا تھا۔ تو کیا اب درہ آدم خیل جیسی اہم شاخیں مرکزی قیادت سے علیحدہ ہو چکی ہیں؟ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ یا یہ جان بوجھ کر لوگوں میں ایک ابہام تخلیق کرنے کی کوشش ہے؟

پشاور سکول حملے کے بعد جس قسم کا منفی عوامی ردعمل سامنے آیا اس نے یقیناً اس وقت تحریک طالبان کو بھی سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا اس کا اقدام درست تھا یا نہیں۔

خلفیہ عمر منصور 37 سال کے بتائے جاتے ہیں۔ وہ لمبی داڑھی رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ اسلام آباد سے پڑھے ہوئے ہیں اور کراچی میں اپنے بھائیوں کے ساتھ محنت مزدوری بھی کر چکے ہیں۔ شدت پسند حلقوں میں انھیں پشتو زبان میں’نرے‘ یعنی کمزور کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

تحریک طالبان نے ان کی پشاور سکول پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ ایک ویڈیو بھی جاری کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہلاک ہونے والوں میں یونیورسٹی کے شعبۂ کیمیا کے ایک پروفیسر اور متعدد طلبہ بھی شامل ہیں

لگتا ہے تحریک طالبان کی گرفت اپنی مختلف شاخوں پر کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اندرونی قیادت کی چپقلش، فنڈز پر لڑائی یا اہداف کے انتخاب پر اختلاف۔ مہمند قبائلی علاقے میں موجود جماعت الحرار بھی ماضی میں کبھی مرکزی تحریک طالبان میں شامل اور کبھی الگ ہوتی رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں شدت پسندوں کی جانب سے حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ ان حملوں سے ایسا لگ رہا ہے کہ شدت پسند ایک مرتبہ پھر سر اٹھا رہے ہیں جس سے اب آپریشن ضرب عضب پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

شمالی وزیر ستان میں بھی صورت حال زیادہ واضح نہیں جہاں ضربِ عضب جاری ہے اور اس علاقے پر ڈیڑھ سال بعد بھی سکیورٹی فورسز مکمل کنٹرول حاصل نہیں کر سکی ہیں۔

اسی بارے میں