عمران فاروق کیس: ’خالد شمیم وعدہ معاف گواہ بننے پر تیار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عمران فاروق قتل کیس میں خالد شمیم سمیت تین ملزمان زیرِ حراست ہیں

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں گرفتار ملزم خالد شمیم نے وعدہ معاف گواہ بننے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔

جمعرات کو اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ملزم نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین اور اُن کے دیگر ساتھیوں کو بھارتی خفیہ ایجنسی را، امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے اور برطانوی خفیہ ایجسی ایم آئی سکس کی حمایت حاصل ہے۔

عمران فاروق قتل کیس: تین ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ

ان کا کہنا تھا کہ وہ اس مقدمے کو عالمی عدالت میں لے جانا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے اُنھیں عوام کی مدد چاہیے۔

صحافیوں کے اس سوال پر کہ کیا وہ اس مقدمے میں وعدہ معاف گواہ بن رہے ہیں، خالد شمیم کا کہنا تھا کہ وہ وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے تیار ہیں۔

بدھ کو سماعت کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ملزم کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 دن کی توسیع کر دی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے مقدمے میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقاتی رپورٹ کی روشنی میں ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین سمیت سات افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تھا۔

اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل ایک اہلکار کے مطابق ملزم خالد شمیم نے چند روز قبل اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کے پاس ایک بیان ریکارڈ کروایا تھا جس میں اُنھوں نے اس واقعے میں اپنے کردار کے بارے میں بتایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Metropolitan Police
Image caption عمران فاروق 16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنے گھر کے باہر ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے تھے

خالد شمیم کا بیان ابھی تک متعلقہ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا تاہم اہلکار کے مطابق ملزم کا بیان مقدمے کے ریکارڈ کے ساتھ ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اہلکار کے مطابق ملزم خالد شمیم کو مبینہ طور پر ایم کیو ایم کی قیادت کی طرف سے ہدایت دی گئی تھی کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو قتل کرنے کے لیے برطانیہ جانے والے محسن علی اور کاشف خان کو پاکستان آمد کے موقعے پر قتل کر دیا جائے۔

اس مقدمے کے ایک اور ملزم معظم علی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُنھوں نے ملزم محسن علی اور کاشف خان کے برطانیہ جانے کا بندوبست کیا تھا۔

خالد شمیم کے علاوہ ملزم محسن علی نے بھی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کو بیان ریکارڈ کروایا تھا جس میں اُنھوں نے ڈاکٹر عمران فاروق قتل کے مقدمے میں اپنے کردار کے بارے میں بتایا تھا۔

ایم کیو ایم کی قیادت نے ملزمان کے ان بیانات سے لاتعلقی اور لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سینیئر رہنما اور سابق رکن پارلیمان عمران فاروق 16 ستمبر 2010 کو لندن میں اپنے گھر کے باہر ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

لندن میں میٹروپولیٹن پولیس اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے، تاہم واقعے کو پانچ برس سے زیادہ عرصے گزرنے کے بعد حال ہی میں پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی مدعیت میں متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین، ان کے رشتہ دار افتخار حسین، رابطہ کمیٹی کے رکن محمد انور، معظم علی، خالد شمیم، کاشف خان اور محسن علی کے خلاف ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں