پاکستان میں ایک ہفتے میں بجلی کا دوسرا بڑا بریک ڈاؤن

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption 15جنوری کو بھی صوبہ پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے کے باعث ملک کے متعدد علاقوں میں بجلی بند ہو گئی تھی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کے بڑے حصے کو گڈو تھرمل پاور پلانٹ کے مقام پر ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے کی وجہ سے بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

سرکاری ٹی وی نے وزارتِ پانی و بجلی کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک میں بجلی کے بریک ڈاؤن سے متاثرہ 90 فیصد علاقوں میں بجلی کی سپلائی بحال ہوگئی ہے۔

رواں ہفتے یہ دوسرا موقع ہے کہ بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کی وجہ سے کہ ملک کے بیشتر علاقے بجلی سے محروم ہوئے ہیں۔

نیشنل گرڈ میں خرابی

بجلی کے بریک ڈاؤن میں افواہیں

بجلی کا یہ بریک ڈاؤن جمعرات کی سہ پہر تین بجے کے بعد گڈو تھرمل پاور پلانٹ کے مقام پر نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ سسٹم کی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ کر جانے کے باعث ہوا ہے۔

ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے سے منگلا، تربیلا اور غازی بروتھا کے ہائیڈرو اور تھرمل پاور یونٹس بھی ٹرپ کر گئے اور بجلی کی پیداوار بھی بند ہو گئی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل 15جنوری کو بھی صوبہ پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں بجلی کی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے کے باعث نہ صرف ملک کے متعدد علاقوں میں بجلی بند ہو گئی تھی بلکہ متعدد دیگر پاور پلانٹ بھی بند ہوگئے تھے۔

وفاقی وزیر برائے پانی وبجلی خواجہ آصف نے گذشتہ برس یہ دعویٰ کیا تھا کہ حکومت 2017 تک توانائی کے بحران پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

گذشتہ برس 25 جنوری میں ہی نیشنل گرڈ میں خرابی کے باعث ملک کے 80 فیصد علاقوں میں بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی تھی۔

آٹھ جنوری 2015 کو بھی ملک میں دھند اور نمی کی وجہ سے گدو اور دادو کی مین ٹرانسمیشن لائن ٹرپ ہونے کے باعث ملک کے بڑے حصے میں بجلی منقطع ہوگئی تھی۔

دسمبر 2014 میں نیشنل گرڈ سے کراچی کو بجلی فراہم کرنے والی 500 کلو واٹ کی ٹرانسمیشن لائن ٹرپ کر گئی تھی اور کراچی میں آٹھ گھنٹے بجلی بند رہی تھی۔

اس سے قبل سنہ 2005 اور 2009 میں بھی اس قسم کا بحران پیدا ہو چکا ہے اور تحقیقات کے لیے کمیٹیاں بھی بن چکی ہیں۔

اسی بارے میں