طالبِ علم کی سزائے موت کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان میں دی جانے والی پھانیسوں پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے

پانچ سال تک فوجی حراستی مرکز میں قید رہنے والے طالب علم محمد غوری کے والد نے فوجی عدالت سے اپنے بیٹے کو دی گئی سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی ہے جس میں فوجی عدالت کی کارروائی کو جعلی، یکطرفہ، بدنیتی پر مبنی اور پاکستانی آئین اور آرمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

جاوید اقبال غوری نے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں دائر کی گئی اپیل میں اُن حالات کو تفصیل سے بیان کیا ہے جن میں اُن کے بیٹے کو پہلے گمشدہ قرار دیا گیا اور پھر گمشدہ افراد کے لیے بنائے گئے کمیشن کی مداخلت پر چار برس بعد انھیں پاکستانی فوجی انٹیلی جنس ادارے نے زیر حراست رکھنے کا اعتراف کیا۔

لاہور ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں بی اے آنرز کے طالب علم محمد غوری سات جنوری 2010 کے روز اپنے گھر کے قریب سے لاپتہ ہو گئے تھے۔

اس کی تلاش میں ناکامی کے بعد محمد غوری کا معاملہ لاپتہ یا جبری گمشدہ افراد کے کمیشن کے سامنے لایا گیا جہاں تمام سول اور ملٹری انٹیلی جنس اور دیگر اداروں نے محمد غوری کے بارے میں معلومات سے انکار کیا۔

دو برس بعد راولپنڈی میں قائم انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ایک مرکز سے رہائی پانے والے ایک اور لاپتہ شخص نے بتایا کہ اس نے محمد غوری کو اسی حراستی مرکز میں دیکھا تھا۔

Image caption ملک کی مختلف جیلوں میں پانچ ہزار سے زیادہ لوگ موت کی سزا پانے کے بعد اپنی سزا پر عمل درآمد کے انتہائی تکلیف دہ انتظار میں ہیں

اس پر لاپتہ افراد کے کمیشن نے وزارت دفاع کو ہدایت کی کہ وہ محمد غوری کو اس کمیشن کے سامنے پیش کرے۔ ایک برس بعد فوجی انٹیلی جنس ادارے ملٹری انٹیلی جنس نے کمیشن کو بتایا کہ محمد غوری کو لکی مروت میں قائم فوجی حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔

کمیشن کی ہدایت پر محمد غوری سے اس کے والدین کی ملاقات کروائی گئی جہاں انھیں معلوم ہوا کہ تشدد اور نامناسب رہائشی سہولتوں کے باعث محمد غوری مختلف قسم کی بیماریوں کا شکار ہو چکا ہے جن میں پھیپھڑوں اور عضلات کی بیماریاں بھی شامل ہیں جس کی وجہ سے وہ کھڑا نہیں ہو سکتا۔

کمیشن ہی کی مداخلت پر محمد غوری کو چند روز ہسپتال میں رکھنے کے بعد لکی مروت کے حراستی مرکز میں دوبارہ منتقل کر دیا گیا۔

اس کے بعد محمد غوری کے والدین کو اپنے بیٹے سے ملنے اور رابطہ کرنے نہیں دیا گیا۔ اس دوران یکم جنوری 2016 کو انھیں اخبارات کے ذریعے پتہ چلا کہ فوجی عدالت نے ان کے بیٹے کو سکیورٹی فورسز پر حملے کے الزام میں موت کی سزا سنائی ہے۔

جاوید اقبال غوری نے ہائی کورٹ میں دائر اپیل میں کہا ہے کہ حالات اور واقعات کی اس تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے بیٹے کے ساتھ صریحاً ناانصافی کی گئی ہے اور فوجی عدالت کی کارروائی یکطرفہ، غیر منصفانہ، بدنیتی پر مبنی، غیر آئینی اور قواعد و ضوابط کے منافی ہے۔

جاوید اقبال نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی ہے کہ فوجی عدالت کی سزا کو کالعدم قرار دے کر محمد غوری کی رہائی کے احکامات جاری کیے جائیں، اس کے علاوہ میڈیکل بورڈ کے ذریعے ان کے بیٹے کے علاج کا بندوبست کیا جائے کیوں کہ اس کی حالت تشویش ناک ہے۔

اسی بارے میں