تعلیم یافتہ نوجوان زندگی میں ترُپ کے پتے کے منتظر

Image caption شعیب ناصر نے الیکٹرونکس میں انجینیئرنگ کی ڈگری مکمل کی ہے

دریائے جہلم اور چناب کے پانیوں سے سراب وسطیٰ پنجاب کے علاقے منڈی بہاؤ الدین کے ایک گاؤں میں کھیتوں کے درمیان بنے ڈھیر پر کچھ نوجوان تاش کھیل رہے ہیں۔

ان نوجوانوں میں ایک شعیب ناصر بھی ہیں جو شاید کھیل کے ساتھ ساتھ اپنے زندگی میں بھی ترپ کے پتے کے منتظر ہیں۔

شعیب الیکٹرونکس انجینیئر ہیں اور کئی سال گھر سے دور رہ کر تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ ملازمت تلاش کر رہے ہیں۔ شعیب نے بتایا کہ انھوں نے ملازمت کی تلاش کے لیے کئی ٹیسٹ دیے لیکن تاحال انھیں کہیں سے بھی ملازمت کی نوید نہیں ملی۔

وسائل محدود ہیں اور بڑے شہر میں رہ کر ملازمت ڈھونڈنا اب اُن کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اس لیے انھوں نے گاؤں واپس آنے کو ترجیح دی ہے۔

شعیب ناصر کا تعلق متوسط طبقے سے ہے۔ زمین اتنا اناج پیدا کرتی ہے کہ سال بھر بازار سے خریدنا نہیں پڑتا۔ روز مرہ کے اخراجات کو پورے کرنے کے لیے اُن کے والدین چاہتے ہیں کہ وہ ملازمت کریں لیکن جوں جوں وقت گزر رہا ہے اچھے مستقبل کی تلاش کے امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’والدین نے زمین بیچ کر تعلیم پر 11 لاکھ روپے خرچ کیے۔ ان سات مہینوں میں نوکری کے لیے 11 سے 12 ٹیسٹ دیے ہیں لیکن کوئی کال نہیں آئی۔ سب ریفرنس مانگتے ہیں، تجربہ مانگتے ہیں۔‘

’میں نے گاؤں واپس آنے کا فیصلہ کیا اب کہیں باہر جا کر محنت مزدوری کروں گا۔‘

صرف شعیب ہی نہیں، پاکستان میں بہت سے نوجوان بے روزگاری کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہیں اور ایسے تعلیم یافتہ افراد کی بھی کمی نہیں ہے جو ایک سے زیادہ مضامین میں ڈگریاں لینے کے بعد بھی بے روزگار ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال 20 لاکھ نوجوان یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کر کے نوکری تلاش کرتے ہیں اور 21 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح نو فیصد ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ معیشت کی ترقی کے بغیر روزگار کے مواقع پیدا نہیں کیا جا سکتے۔

ماہر اقتصادیات ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کفایت شعاری کی پالیسیوں کے وجہ سے معیشت محدود ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’حکومتی پالیسوں کی وجہ سے معیشت میں جان ختم ہو گئی ہے، معیشت لاغر ہو گئی ہے اور اس لیے نوکریاں نہیں پیدا ہو رہیں۔‘

پاکستان کا شمار دنیا کی دسویں بڑی افرادی قوتوں میں ہوتا ہے اور اتنی بڑی تعداد میں نوجوان آبادی کو روزگار دینے کے لیے ضروری ہے کہ ملکی معیشت سالانہ سات فیصد شرح نمو سے ترقی کرے، لیکن گذشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کی اقتصادی شرح نمو محض تین سے چار فیصد سالانہ ہے۔

لیبر فورس سروے کے مطابق پاکستان میں 21 سے 24 سال کی عمر کے نوجوان افراد نے ملازمت نہ ملنے کے باعث تنگ آ کر نوکری کی تلاش کم کر دی ہے۔

Image caption ڈاکٹر اشفاق کے مطابق یونیوسٹیوں کو بھی اپنے نصاب میں تبدیلی کرنی چاہیے

ڈاکٹر اشفاق حسن خان کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے موقع پیدا کرنا لازمی ہے، ورنہ یہ نوجوان افراد منفی سرگرمیوں میں بھی مبتلا ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’ہماری یونیوسٹیاں ایسے تعلیم یافتہ افراد پیدا کر رہی ہیں جو بے روزگار ہیں اور ایسے تعلیم یافتہ افراد کی مارکیٹ میں کھپت نہیں ہے۔‘ ڈاکٹر اشفاق کے مطابق یونیوسٹیوں کو بھی اپنے نصاب میں تبدیلی کرنی چاہیے۔

یورپ اور چین جیسی معیشتوں میں معمر افرادی قوت کی وجہ سے اقتصادی ترقی کی رفتار کم ہو رہی ہے اور پالیسیاں تبدیل کی جا رہی ہیں، وہیں پاکستان کا شمار دنیا کے اُن ممالک میں ہوتا ہے جہاں کی آبادی کی اکثریت نوجوانوں پر مشتمل ہے اور کسی بھی ترقی پذیر ملک کی معیشت کے لیے نوجوان آبادی سنہری موقع سے کم نہیں ہے، جس سے فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔

اسی بارے میں