عبدالعزیز پر سینیٹ کی وزیر داخلہ سے وضاحت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثارکی جانب سے 30 دسمبر سنہ 2015 کو لال مسجد کے سابق خطیب عبدالعزیز کے حوالے سے سینیٹ میں دیے جانے والے بیان پر ان سے وضاحت طلب کی ہے۔

اپوزیشن جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے جمعے کو سینٹ کے اجلاس میں چار دستاویزات پیش کی گئی ہیں جن میں وزیرِ داخلہ کے مذکورہ بیان پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

بی بی سی سے گفتگو میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ وزیرِ داخلہ نے 30 دسمبر کو دیے جانے والے بیان میں کہا تھا کہ ’مولانا عبدالعزیز کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں ہے اور ہمارے پاس کوثبوت نہیں ہے اس لیے ہم نے ایکشن نہیں لیا۔‘

سینیٹر فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ انہوں نے سینٹ میں مولانا عبدالعزیز کے خلاف درج کی جانے والی دو ایف آئی آرز کی کاپی جمع کروائی ہیں۔

ان کا کہنا تھا ایک ایف آئی آر خود وزارتِ داخلہ کی جانب سے اکتوبر 2014 میں درج کروائی گئی تھی۔ اس میں مدعی ایس ایچ او آبپارہ پولیس سٹیشن تھے۔

انھوں نے کہا کہ جمع کروائے گئے دستاویزاتی ثبوت میں پولیس کا وہ بیان بھی شام ہے جو عدالت میں عبدالعزیز کی روپوشی کے حوالے سے دیا گیا۔

’پولیس نے عدالت میں جا کر کہا تھا کہ یہ شخص روپوش ہوگیا ہے اس لیے اسے اشتہاری قرار دیا جائے۔‘

سینیٹر فرحت اللہ بابرنے بتایا کہ سینیٹ میں ان اشتہارات کی کاپی بھی جمع کروائی گئی جو لال مسجد کے سابق خطیب کو اشتہاری قرار دینے کے لیے اخبارات میں شائع ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کا وہ بیانِ حلفی بھی جمع کروایا ہے جس میں پولیس نے اقرارکیا تھا کہ یہ اشتہارات لال مسجد اور عبدلاعزیز کے گھر کے باہر لگایا گیا ہے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ پی ٹی آے کا وہ خط بھی سینیٹ میں جمع کروایا گیا ہے جس میں تمام موبائل کمپنیوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ ’جمعے کو خطبے کے وقت لال مسجد کے اردگرد کے علاقوں میں موبائل سروس بند رکھیں‘۔

وہ کہتے ہیں کہ جب سارے دستاویزات موجود تھے تو پھر ان سے لاعلمی کا اظہار کیوں کیاگیا۔

’کیا وزیرِ داخلہ لاعلم تھے، ڈرے ہوئے تھے یا پھر ان کے ساتھ ملے ہوئے تھے۔‘

چیئرمین سینیٹ نے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے جمع کروائے گئے ان تمام دستاویزات کو وزارتِ داخلہ بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ وزیرِ داخلہ کی جانب سے وضاحت پیش کیے جانے کے بعد ہی ان کی جماعت کوئی لائحہ عمل اختیار کرے گی۔

’چیئرمین سینیٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان تمام دستاویزات کو وزارت داخلہ بھیجا جائے اور ساتھ ہی وزیر داخلہ 30 دسمبر والی تقریر کی کاپی بھی بھیجی جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ آپ کے بیان اور ان ڈاکومینٹس میں جو حقائق ہیں ان میں بڑا تضاد ہے اس تضاد کی وضاحت کی جائے۔‘

خیال رہے کہ نومبر 2015 میں وفاقی حکومت نے قانون نافد کرنے والے اداروں اور خفیہ ایجنسیوں سے کہا ہے کہ وہ لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں کیونکہ ان کی سرگرمیاں امن وامان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے شدید خطرہ ہیں۔

اسی بارے میں