کچھ افغان عناصر پاکستان کو نشانہ بنا رہے ہیں: نواز شریف

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا کہ مستحکم افغانستان ہی مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود کچھ عناصر پاکستانی سرزمین پر حملوں میں ملوث ہیں اور سرحد پار سے ایسے حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

تاہم لندن میں ذرائع کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم نے یہ بھی تسلیم کیا کہ دسمبر 2014 میں پشاور میں آرمی پبلک سکول پر طالبان کے حملے کے بعد دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تشکیل دیے جانے والے نیشنل ایکشن پلان کے بعض نکات پر عمل درآمد سست روی کا شکار ہے۔

’حملے کے ذمہ داران افغانستان میں، صدر غنی سے مدد کا مطالبہ‘

چارسدہ حملے کے ’سہولت کار‘ میڈیا کے سامنے پیش

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال نہ کرنے دینے کا معاہدہ ہے اور پاکستان اس معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار کچھ ایسے عناصر موجود ہیں جو چارسدہ یونیورسٹی پر حملے جیسی کارروائیاں کرتے ہیں۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی پر حال ہی میں ہونے والے حملے میں 21 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کو افغانستان سے کنٹرول کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption فوجی حکام نے سنیچر کو چار ’سہولت کاروں‘ کو میڈیا کے سامنے پیش کیا

پاکستان کے فوجی حکام نے باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے دوران مارے جانے والے چار حملہ آوروں کے چار ’سہولت کاروں‘ کو سنیچر کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ حملہ افغانستان سے ہی ہوا ہے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان یہ نہیں کہ رہا کہ یہ حملہ افغان حکومت نے کروایا ہے۔

خیال رہے کہ اس حملے کے سلسلے میں پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ نے افغان صدر سے فون پر بات بھی کی تھی اور حملے کے ذمہ داران کی نشاندہی اور ان کے خلاف کارروائی میں مدد دینے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

وزیرِ اعظم نواز شریف نے یہ بھی کہا کہ ’مستحکم افغانستان ہی مستحکم پاکستان کی ضمانت ہے اور ہمیں ایک دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے کی پالیسی پر عملدرآمد ہوتے ہوئے دہشت گردوں کے حملوں کی روک تھام کے لیے موثر حکمت عملی اپنانی چاہیے۔‘

اسی بارے میں