’پاکستان دکھائے کہ وہ شدت پسندوں کو کچلنے میں سنجیدہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی پالیسی درست ہے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ پاکستان شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کے معاملے میں درست سمت میں گامزن ہے تاہم اسے دکھانا ہوگا کہ وہ شدت پسند گروہوں کو کچلنے کے سلسلے میں سنجیدہ ہے۔

اتوار کو واشنگٹن میں بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ انڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں امریکی صدر نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ’پاکستان ایسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف زیادہ موثر کارروائی کر سکتا ہے جو اس کی سرزمین سے کارروائیاں کرتے ہیں اور اسے ایسا کرنا بھی چاہیے‘۔

’مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے‘

گرفتاریوں سے کوئی فرق نہیں پڑے گا: جیشِ محمد

براک اوباما نے کہا کہ پاکستانی قیادت یہ سمجھ چکی ہے کہ خطے میں عدم استحکام خود پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے اور پاکستان کی شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی پالیسی درست ہے۔

’وہ ایک صحیح پالیسی ہے۔ اس (پشاور کے آرمی سکول پر حملے) کے بعد سے ہم نے دیکھا ہے کہ پاکستان نے کئی مخصوص گروہوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں اور ساتھ ہی ہم نے پاکستان میں مسلسل دہشت گردی کے واقعات بھی دیکھے ہیں جیسے کہ حال ہی میں شمال مغربی پاکستان میں یونیورسٹی پر حملہ ہوا۔‘

براک اوباما نے کہا کہ ’پاکستان کے پاس موقع ہے کہ دکھائے کہ وہ دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کا قلع قمع کرنے اور غیر قانونی قرار دینے میں سنجیدہ ہے۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا اس خطے (جنوبی ایشیا) اور دنیا بھر میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو بالکل برداشت نہیں کیا جانا چاہیے اور دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

امریکی صدر نے ان خیالات کا اظہار ایک ایسے موقع پر کیا ہے جب بھارت کی جانب سے پٹھان کوٹ کے فضائی اڈے پر حملے کے الزامات پاکستان کی کالعدم شدت پسند تنظیم جیشِ محمد پر لگائے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں جیشِ محمد کے متعدد دفاتر بند کر کے اس کے بانی مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے

پاکستان نے پٹھان کوٹ پر حملے کی تحقیقات میں بھارت سے مکمل تعاون کا اعلان کیا تھا اور اس اعلان کے چند دن بعد پاکستان میں جیشِ محمد کے متعدد دفاتر بند کر کے اس کے بانی مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے اتوار کو لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پٹھان کوٹ پر حملے کی تحقیقات اور بھارت کی جانب سے فراہم کردہ ثبوتوں کی تصدیق کا عمل جاری ہے جس کی تکمیل پر ہی حقائق سامنے لائے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم اس سلسلے میں بھارت جا کر مزید شواہد بھی جمع کرے گی۔

اسی بارے میں