’ہمیں قلم اٹھانے کی سزا کیوں دی جارہی ہے؟‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے صوبے خیبر پختوخوا کے علاقے چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی میں تدریسی عمل غیر معینہ مدت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

یونیورسٹی کی انتظامیہ کے مطابق اگلے ہفتے بلائے گئے ایک اجلاس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ تدریسی عمل کو دوبارہ کب بحال کیا جائے۔

گذشتہ ہفتے ہونے والے حملے کے بعد پیر کو یونیورسٹی کو جب سٹاف کے لیے کھولا گیا تو طالب علموں نے یونیورسٹی کے باہر اختجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ سکیورٹی انتظامات کو بہتر بنایا جائے۔

طالب علموں اور والدین کے اعتراضات کے پیش نظر یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ سکیورٹی کے انتظامات میں بہتری اور دیواروں کی مرمت تک تعلیمی ادارہ طالب علموں کے لیے بند رہے گا۔

گزشتہ ہفتے باچا خان یونیورسٹی پر چار طالبان حملہ آوروں کے حملے میں ایک اسسٹنٹ پروفیسر سمیت 21 طالب علم ہلاک ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد پاکستانی فوج اور سیاستدانوں کی جانب سے شدت پسندوں کی کمر توڑ دینے کے دعووں پر شہری سوال اٹھا رہے ہیں۔

احتجاج میں شامل ماسٹرز کے ایک طالب علم سلیمان کا کہنا تھا کہ ’ایک سال پہلے آرمی بپلیک سکول پر حملہ اور اب ہماری یونیورسٹی پر حملہ، آخر یہ کب تک چلے گا؟ جب تک حکومت تعلیمی اداروں کو مکمل سکیورٹی فراہم نہیں کرتی ہم کلاس میں نہیں جائیں گے‘۔

طالبان کے حملے میں سلیمان خود تو بچنے میں کامیاب ہوگئے مگر اپنے دوستوں کو کھو دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دشمنوں سے ڈرتے نہیں مگر ہمیں ہمارے ساتھیوں کے خون کا حساب دیا جائے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستانی میڈیا کے مطابق پیر کو یونیورسٹی میں کلاسز کا آغاز متاثرین کے لیے دعاؤں سے کیا گیا۔

پیر کو یونیورٹسی کے باہر ہونے والے اختجاجی مظاہرے میں تقریباً سو سے سے زیادہ طالب علموں نےشرکت کی۔ شرکاء نے صوبائی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

یونیورسٹی کے میڈیا کے ترجمان سعید خان نے بتایا کہ ’یونیورسٹی کے تمام سینئر عملے کا اجلاس ہوا ہے جس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ ادارہ غیر معینہ مدت تک بند رہے گا۔ سکیورٹی کے انتظامات میں بہتری اور دیواروں کی مرمت مکمل ہونے کے بعد یونیورسٹی کو کھولا جائے گا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’اجلاس میں متفقہ طور پر صوبائی اور مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی میں تعینات سکیورٹی گارڈز کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ انھیں جدید اسلحہ مہیا کیا جائے۔‘

یونیورسٹی کا مطالبہ ہے کہ اساتذہ کو ہتھیار دیے جائیں اور ادارے کو تین ایمبیولینز کے علاوہ فائر بریگیڈ کی سہولت بھی دی جائے۔

تعلیم کا حرج ہونے پر ایک طالب علم ذیشان نے ریاست سے سوال کیا کہ ’ہمیں قلم اٹھانے کی سزا کیوں دی جارہی ہے۔؟‘

ذیشان نے مزید کہا کہ ’اب ہم مجبور ہو گئے ہیں کہ اساتذہ کو ہتھیاروں سے لیس کریں جبکہ اساتذہ کا ہتھیار تو صرف قلم ہوتا ہے۔‘

اسی بارے میں