نیو اسلام آباد ایئر پورٹ بدعنوانی، کیس نیب کو بجھوانے پر غور

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اجلاس میں نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کے تعمیری منصونے کا جائزہ لیا گیا

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کے منصوبے میں اربوں روپے کی بدعنوانی کے انکشاف کے بعد مزید تحقیقات کے لیے کیس نیب کو بھجوانے پر غور کر رہی ہے۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ منصوبے کی تعمیراتی لاگت 115 ارب تک پہنچ گئی ہے۔

پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس منگل کو اسلام آباد میں چیئر مین خورشید شاہ کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کے تعمیری منصونے کا جائزہ لیا گیا۔

سیکریٹری سول ایوی ایشن عرفان الہٰی نے کمیٹی کو بتایا کہ نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کی تعمیر کا 95 فیصد کام مکمل ہو گیا ہے لیکن انھوں نے کہا کہ نئے ایئر پورٹ کے لیے پانی کی فراہمی کا انتظام نہیں ہو سکا ہے اور نہ ہی ابھی تک رابطہ سڑکیں تعمیر ہو سکیں ہیں۔

پی اے سی کو بتایا گیا ہے اسلام آباد کے لیے نئے ایئر پورٹ کا منصوبہ سنہ 2004 میں شروع ہوا تھا اور پی سی ون کے تحت ایئر پورٹ کی تعمیر پر 36 ارب روپے خرچ ہونے تھے لیکن سنہ 2008 میں نظرثانی کے بعد منصوبے کی لاگت کا تخیمنہ 81 ارب روپے لگایا گیا جو بعد میں بڑھ کر 97 ارب تک پہنچ گیا۔

سیکریٹری نے بتایا کہ ایئر پورٹ کی تعمیر پر اب تک 50 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایئر پورٹ کو پانی کی فراہمی کے لیے ڈیم بنانے اور رابطے سڑکوں کی تعمیر کے بعد منصوبے کی مجموعی لاگت 115 ارب تک پہنچ جائے گی۔

پبلک اکاونٹس کمیٹی کے چیئر مین خورشید شاہ نے کہا کہ کئی سال قبل بھی 95 فیصد کام مکمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا لیکن ایئر پورٹ سنہ 2018 تک مکمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے کمیٹی کو بتایا کے ٹھکیداروں کو اربوں روپے کی اضافی رقوم دی گئی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ انفراسٹیکچر اور سول ورکس کی مد میں غیر رجسٹرڈ انجنیئرنگ کمپنی کو چار ارب روپے اضافی دیے گئے ہیں۔

پبلک اکاونٹس کمیٹی کے ممبران نے نیو اسلام آباد ایئر پورٹ کی تعمیر کے منصوبے میں بدعنوانیوں کا کیس مزید تحقیقات کے لیے نیب کو بھجوانے کا مطالبہ کیا ہے۔

چیئر مین پی اے سی نے سول ایوی ایشن حکام کو ایک دن کے بعد بریفنگ کے لیے دوبارہ پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔

اسی بارے میں