خواجہ سعد کے حلقے میں ووٹوں کی تصدیق کا حکم

پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ سعد رفیق تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خواجہ سعد رفیق کے پاس ان دنوں وزارت ریلوے کا قلمدان ہے

سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 125 میں ووٹوں کی تصدیق کا حکم دیا ہے اور اس ضمن میں نینشل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کو حکم دیا ہے کہ وہ تین ماہ میں ووٹوں کی تصدیق کا عمل مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے۔

یہ حکم چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حامد خان کی درخواست پر دیا۔

قومی اسمبلی کے اس حلقے سے حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما خواجہ سعد رفیق کامیاب ہوئے تھے۔ خواجہ سعد رفیق کے پاس ان دنوں وزارت ریلوے کا قلمدان ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ ووٹوں کی تصدیق پر اُٹھنے والے اخراجات درخواست گزار حامد خان برداشت کریں گے۔

اس درخواست کی سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ اُنھیں معلوم نہیں تھا کہ عوام کے ووٹوں سے جیتنے کے بعد ڈھائی سال سے زیادہ عرصے تک عدالتوں کے چکر بھی لگانے پڑیں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ اگلے تین ماہ میں اس حلقے سے متعلق فیصلہ ہو جانا چاہیے اور عدالت عظمیٰ کا جو بھی فیصلہ ہوگا وہ اس کو منظور کریں گے۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کے انتخابی حلقے میں بھی ووٹوں کی تصدیق کا عمل تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دے چکی ہے۔

دوسری جانب صوبہ پنجاب کے الیکشن ٹرائبیونل نے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 122 میں مبینہ دھاندلی سے متعلق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیکر مسترد کردیا ہے۔

اس حلقے سے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق نے کامیابی حاصل کی تھی۔ حزب مخالف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کا موقف تھا کہ حکمراں جماعت نے لاہور کے دوسرے علاقوں میں رہنے والے متعدد افراد کے ووٹ اس حلقے میں منقتل کروائے تھے۔

قومی اسمبلی کے اس حلقے میں دو مرتبہ انتخابات ہوچکے ہیں۔ سنہ 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو مسلم لیگ کے اُمیدوار سردار ایاز صادق نے شکست دی تھی۔ عمران خان نے ان انتخابات کو چیلنج کیا تھا جس پر الیکشن ٹرائبیونل نے اس حلقے میں دوبارہ انتحابات کروانے کا حکم دیا تھا۔

سردار ایاز صادق نے اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیا اور گذشتہ برس ہونے والے انتخابات میں دوبارہ کامیابی حاصل کی۔

اسی بارے میں