جہانگیری اور سفارت کاری گھٹی میں تھی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

رام پور کی روہیل کھنڈی ریاست کے ایک وزیرِ اعظم صاحبزادہ عبدالصمد خان نے پہلی عالمی جنگ کے بعد بننے والی لیگ آف نیشن (جمیعتِ اقوام) میں برطانوی ہند کی نمائندگی بھی کی ۔

لہذا ستمبر سنہ 1920 میں صاحبزادہ صاحب کے ہاں جب یعقوب علی خان کی ولادت ہوئی تو گھٹی میں جہانگیری و سفارت کاری بھی موجود تھی۔

یعقوب علی خان کی تعلیم و تربیت اشرافی اصولوں کے ماحول میں ہوئی ۔سنہ 1940 میں فوج میں رائل کمیشن ملا۔ افریقہ کور کا حصہ بن کے شمالی افریقہ میں جنرل رومیل کے دستوں سے لڑائی کی اور طبروق کے محاصرے میں بھی شامل رہے۔

سنہ 1942میں اطالویوں سے بھڑنت کے دوران جنگی قیدی بن گئے۔گو لڑائی ختم ہونے کے بعد رہائی پائی مگر دورانِ قید اطالوی اور جرمن بھی سیکھ لی ( صاحبزادہ سات زبانیں بول سکتے تھے )۔

بعد ازاں بھارت کے بجائے پاکستان کا انتخاب کیا اور فوجی کیرئیر بدستور رکھا۔ سنہ 1965 کی جنگ میں عسکری خدمات انجام دیں۔ سنہ 1971 کے اوائل میں لیفٹننٹ جنرل یعقوب علی خان کو ایسٹرن فوجی کمان سونپی گئی اور گورنر مشرقی پاکستان وائس ایڈمرل محمد احسن کی مدد کا حکم دیا گیا۔ یہ وہ نازک دور تھا جب مشرقی پاکستان وفاق کے ساتھ جس دھاگے سے لٹک رہا تھا وہ کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا تھا۔

گورنر احسن اور جنرل یعقوب علی خان بنگالی قیادت کے ساتھ سیاسی معاملات سیاسی طریقے سے سلجھانے کے وکیل تھے۔ جب یحیی خان اور اس کے ’پانچ پیاروں‘ نے مشرقی پاکستان کے معاملے کو خون کے جام میں ڈبونے کا فیصلہ کر لیا تو گورنر احسن نے مرکزی حکومت سے رخصتی مانگ کر یکم مارچ سنہ 1971 کو بوریا بستر باندھ لیا۔

فوجی حکومت نے متبادل گورنر صاحبزادہ یعقوب علی خان کو بنایا۔ لیکن ایک ہفتے کے اندر ہی انھوں نے بھی ایسٹرن کمان اور گورنر شپ تیاگ دی ۔ شائد وہ اپنے ضمیر کے برعکس ہم وطن بنگالیوں کے خون سے ہاتھ نہیں رنگنا چاہتے تھے۔

صاحبزادہ یعقوب خان کی واپسی کے بعد جنرل ٹکا خان کو گورنر اور جنرل امیر عبداللہ نیازی کو کمانڈر بنا کے بھیجا گیا اور پھر دونوں نے مل کے’پاکستان بچا لیا۔‘

صاحبزادہ یعقوب خان کا جی اچاٹ ہوگیا اور انھوں نے سنہ 1972 میں ریٹائرمنٹ لے کر مطالعے سے مکمل رجوع کرلیا۔ سنہ 1973 میں بھٹو حکومت نے صاحبزادہ کو سفارت کی پیش کش کی جو قبول کر لی گئی ۔

صاحبزادہ نے پیرس ، ماسکو اور واشنگٹن میں بطور سفیر پاکستانی مفادات کی ترجمانی کی۔ سنہ 1982 میں جنرل ضیا الحق نے انہیں وزیرِ خارجہ کا عہدہ پیش کردیا۔

سوویت یونین کی افغانستان میں موجودگی حکومتِ وقت کا سب سے بڑا خارجی چیلنج تھا۔ خاموش طبع یعقوب علی خان اس ٹیم کے لیڈر تھے جسے پرپیچ عالمی پگڈنڈیوں پر پاکستان کی سفارتی موٹر چلاتے ہوئے ضیا حکومت کو ایک پڑھا لکھا مہذب چہرہ بھی دینا تھا۔

جب افغان مسئلے کے حل کے طریقوں پر عسکریت پسند ضیا الحق اور صلح پسند محمد خان جونیجو کے درمیان رائے کا فرق سامنے آیا تو صاحبزادہ نے خاموشی سے یکم نومبر سنہ 1987 کو وزارتِ خارجہ سے استعفی دے دیا اور زین نورانی نے دفترِ خارجہ کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔

جونیجو حکومت کی برطرفی کے بعد صاحبزادہ کو ایک بار پھر نو جون سنہ 1988 کو پکارا گیا۔ جنرل ضیا الحق کی وفات کے بعد قائم مقام صدر غلام اسحاق خان اور سپاہ سالار جنرل اسلم بیگ کی جوڑی نے اقتدار جب بے نظیر بھٹو کو منتقل کیا تو خارجہ پالیسی میں تسلسل کے لیے یہ تاکید بھی کی کہ صاحبزادہ یعقوب علی خان کو ان کے عہدے پر برقرار رکھا جائے گا ۔

صاحبزادہ اگست سنہ 1990 میں بے نظیر حکومت کی برطرفی کے بعد بھی بیس مارچ سنہ 1991 تک خارجہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔

اگلے برس اقوامِ متحدہ نے صاحبزادہ کی خدمات مغربی صحارا کے بحران کے حل کے لیے بطور مستقل مندوب حاصل کرلیں۔ صاحبزادہ پانچ برس تک ثالث رہے۔ بعد ازاں بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کی برطرفی کے بعد ملک معراج خالد کی نگراں حکومت میں تین ماہ کے لیے خارجہ امور دیکھے۔

صاحبزادہ یعقوب خان سنہ 2001 تک آغا خان یونیورسٹی کے بورڈ آف گورنرز کے اعزازی چیئرمین کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے اور پھر پبلک لائف سے مکمل کنارہ کش ہوگئے۔ ان کے بارے میں اگر تفصیلاً جاننا ہو تو ڈاکٹر انور دل کی کتاب ’اسٹرٹیجی ، ڈپلومیسی ، ہیومینیٹی ، لائف اینڈ ورک آف صاحبزادہ یعقوب خان ‘ پڑھی جاسکتی ہے۔