پاکستان اور ایران کا سرحد پر مشترکہ گشت پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ ISNA
Image caption بلوچستان سے ایرانی حدود میں سکیورٹی فورسز پر حملے ہو چکے ہیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان اور ایرانی صوبہ سیستان بلوچستان کے حکام کے درمیان دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی کے لیے دونوں صوبوں کی سکیورٹی فورسز کے درمیان معلومات کے تبادلے اور مشترکہ گشت پر اتفاق کیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں بدھ کی شب جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق اس بات پر اتفاق بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری اور ایران کے صوبہ سیستان بلوچستان کے ڈپٹی گورنر علی اصغر میر شکاری کے درمیان اعلیٰ سطح کے وفود کے ہمراہ ہونے والی ملاقات میں کیا گیا۔

بیان میں اس بات پر بھی مکمل اتفاق رائے پایا گیا ہے کہ دونوں اطراف کے شدت پسندوں کا کوئی مذہب، قوم اور قبیلہ نہیں وہ صرف دہشت گرد ہیں جو اپنی کارروائیوں کے ذریعے برادر اسلامی ممالک کے مفادات کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔

ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ددنوں ممالک دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے اور ان کی پناہ گاہوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ جب تک شدت پسندوں کوختم نہیں کیا جاتا نہ تو پاکستان اور ایران ترقی کر سکتے ہیں اور نہ ہی دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مستحکم ہوسکتے ہیں۔

ملاقات میں ایران اور پاکستان کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے اس بات سے بھی اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں تجارتی حجم کو ابتدائی طور پر پانچ ارب ڈالر سالانہ ہونا چاہیے۔

ملاقات میں دونوں ممالک کی سرحد پر دس مزید تجارتی مراکز کے قیام اور مشترکہ بارڈر کمیشن کے اجلاس میں طے شدہ امور پر عملدرآمد کو یقینی بنانے سے بھی اتفاق کیا گیا۔

اسی بارے میں