’تھر متاثرین کے لیے کمیشن قائم کیا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ کمیشن کے قیام کے لیے حکومت کی رائے معلوم کریں اور اس میں کون شامل ہوں گے اس کی تفصیلات پیش کی جائیں، جس کے بعد مزید سماعت 17 فروری تک ملتوی کردی گئی

سندھ ہائی کورٹ نے تجویز دی کی ہے کہ تھر میں قحط سالی اور متاثرین کی بحالی کی سرگرمیوں کی نگرانی کے لیے کمیشن قائم کیا جائے جس پر عملدر آمد کے لیے حکومت نے مہلت طلب کر لی ہے۔

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائیلر) نے تھر کی صورتِحال کی فوری سماعت کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں یہ درخوست دائر کی تھی۔

’جتنی دیر میں خون کے ٹیسٹ ہوئے، بچہ مرگیا‘تھر میں پانچ دنوں میں 15 بچوں کی ہلاکتتھر ہلاکتیں:’مجرمانہ غفلت‘ کے حکومتی اعتراف کے بعد چیف جسٹس کا از خود نوٹس

درخواست میں پائیلر کے وکیل فیصل صدیقی نے موقف اختیار کیا تھا کہ گذشتہ سال سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر تھر میں خوراک کی فراہمی کے علاوہ ڈاکٹر تعینات کیے گئے تھے جس سے صورتِ حال میں بہتری آئی تھی۔

درخواست گذار کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں بچوں کی ہلاکتوں کے واقعات میں دوبارہ اضافہ ہوا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے ایک بار پھر غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے، اس لیے عدالت اس حوالے سے احکامات جاری کرے۔

عدالت نے سوال کیا کہ کیا نگرانی کے لیے غیر جانبدارانہ کمیشن تشکیل دیا جاسکتا ہے؟ جس کی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل غلام مصطفیٰ نے مخالفت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے تھر کی صورتِ حال پر توجہ دے رہی ہے اور گذشتہ سال بارش نہ ہونے کی وجہ سے وہاں خوراک کی کمی کا سامنا تھا۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر وہاں گندم کی مفت تقسیم کے علاوہ دوائیں اور ڈاکٹر فراہم کیے گئے جبکہ نگرانی کے لیے ایک ریلیف کمیٹی موجود ہے جس کی نگرانی تاج حیدر کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سے پوچھا کہ تاج حیدر عمر رسیدہ شخص ہیں اور اس کام کے لیے کسی نوجوان کی ضرورت ہے۔

غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ تاج حیدر کی کارکردگی قابلِ تحسین ہے اور اس سے حکومت کی سنجیدگی کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس کے علاوہ سینیئر صوبائی وزرا بھی مختلف اوقات میں تھر کا دورہ کرتے رہے ہیں۔

پائیلر کے وکیل فیصل صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ حمید ہارون جیسے غیر جانبدارانہ شخص کی سربراہی میں کمیشن بنایا جائے، جس پر اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص غیر جانبدار نہیں ہوتا اس کی کس نہ کسی کے ساتھ ہمدردی یا وابستگی ہوتی ہے۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی کہ کمیشن کے قیام کے لیے حکومت کی رائے معلوم کریں اور اس میں کون شامل ہوں گے اس کی تفصیلات پیش کی جائیں، جس کے بعد مزید سماعت 17 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں ایک بار پھر نومولود بچوں کی ہلاکتوں کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

صوبائی وزیرِ صحت جام مہتاب کا دعویٰ ہے کہ ان ہلاکتوں کی تعداد 32 ہے اور یہ ہلاکتیں دایوں کے ہاتھوں ڈلیوری کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ انھوں نے شکوہ کیا کہ میڈیا صورتِ حال کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔

صوبائی وزیر کے موقف کے برعکس مقامی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا صحت کے شعبے میں سہولیات کے فقدان اور ڈاکٹروں کی عدم دستیابی کی خبریں نشر کر رہا ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق رواں ماہ جنوری میں اب تک 122 بچے ہلاکت ہو چکے ہیں۔

Image caption سندھ کے صحرائی علاقے تھر میں ایک بار پھر نومولود بچوں کی ہلاکتوں کے واقعات پیش آ رہے ہیں

وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے گذشتہ روز سندھ ہائی کورٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تھر میں معصوم بچوں کی ہلاکتوں پر سندھ حکومت پر غیر ضروری تنقید کی جا رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کی حکومت نے تھر میں صحت کی بہترین سہولیات فراہم کی ہیں۔

انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ہر خاندان کو ماہانہ گندم کی ایک بوری مفت فراہم کی جا رہی ہے اور اس پروگرام سے تھر کی 1.6ملین سے زائد آبادی مستفید ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت نے تھر میں 400 آر او پلانٹس نصب کیے اور ہر ایک پلانٹ سے 10,000 ہزار لوگوں کو پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ رواں سال کے آخر تک مزید 400 آر او پلانٹ نصب کردیے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے میڈیا کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ حالیہ برسوں میں پنجاب میں ڈینگی بخار کے باعث 3,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے مگر کسی نے بھی ان ہلاکتوں پر حکومت سے نہیں پوچھا۔ تھر کے ثقافتی مسائل ہیں وہاں پر خاطر خواہ بارشیں نہیں ہوتی ہیں جبکہ زیر زمین پانی 135 میٹر کی گہرائی میں ہے جو کہ انسانی استعمال کے قابل نہیں ہے۔

اسی بارے میں