’مکمل سکیورٹی تک باچا خان یونیورسٹی بند‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption باچا خان یونیورسٹی کی اساتذہ کی تنظیم کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی اس وقت نہیں کھولی جائی گی جب تک اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری نہیں کی جاتی

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ میں واقع باچا خان یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ یونیورسٹی اس وقت تک نہیں کھولی جائیگی جب تک حکومت کی طرف سے ان کو مکمل سکیورٹی فراہم نہیں کی جاتی اور ان کی شرائط پورے نہیں کی جاتیں۔

پاکستان شدت پسندوں کو کیوں نہیں روک سکا؟

یہ اعلان پیر کو یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فضل رحیم مروت کی سربراہی میں ہونے والے ایک اعلی سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات کے سربراہان اور سٹاف نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے یونیورسٹی کے ترجمان سعید خان خلیل نے کہا کہ یونیورسٹی پر حملے کے بعد ان کی جانب سے حکومت کو یونیورسٹی کی سکیورٹی بڑھانے اور عمارت کی دیواریں اونچا کرنے جیسے چند مطالبات اور شرائط پیش کی گئی تھیں لیکن ان کا ایک مطالبہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے حکومت سے مایوسی کے بعد اب اپنے طور پر جامعہ کے فنڈز سے کیمپس کی دیواریں اونچا کرنے اور حفاظتی چوکیوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جب تک یونیورسٹی انتظامیہ سکیورٹی کے ضمن میں مکمل طورپر مطمئن نہیں ہوجاتی اور فوج اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے کلیرنس نہیں دی جاتی اس وقت تک یونیورسٹی طلبہ کے لیے نہیں کھولی جائیگی۔

انھوں نے کہا کہ اجلاس نے حکومت کی طرف سے یونیورسٹی پر حملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کی رپورٹ مکمل طور پر مسترد کردی ہے اور یہ فیصلہ کیا ہے کہ وائس چانسلر کے خلاف کارروائی کی صورت میں اس کی بھر پور مزاحمت کی جائےگی۔

ادھر باچا خان یونیورسٹی کی اساتذہ کی تنظیم کی طرف سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی اس وقت نہیں کھولی جائی گی جب تک اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری نہیں کی جاتی۔

اساتذہ نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ تمام اساتذہ اور دیگر سٹاف کو اپنی حفاظت کی خاطر اسلحے کے فری لائسنس کا اجرا کیا جائے اور طلبہ کو تین سال تک فیسوں میں چھوٹ دی جائی تاکہ یہاں کے طالبعلم دیگر تعلیمی اداروں کا رخ نہ کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دو ہفتے قبل باچا خان یونیورسٹی پر شدت پسندوں کی طرف سے حملہ کیا گیا تھا جس میں تقربناً 21 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے

خیال رہے کہ تقریباً دو ہفتے قبل باچا خان یونیورسٹی پر شدت پسندوں کی طرف سے حملہ کیا گیا تھا جس میں تقریباً 21 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ ہلاک شدگان میں اکثریت طلبہ کی تھی جبکہ ان میں ایک پروفیسر بھی شامل تھے۔

اس واقعے کے ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان درہ آدم خیل اور پشاور نے اپنی تنظم کی جانب سے قبول کی تھی۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ حکومت کی طرف سے یونیورسٹی واقعے کی تحقیقات کےلیے بنائی گئی تین رکنی کمیٹی نے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور سکیورٹی انچارج کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا۔ تحقیقاتی کمیٹی کمشنر پشاور، ڈی آئی جی مردان رینج اور سیکرٹری ایجوکیشن پر مشتمل تھی۔

باچا ِخان یونیورسٹی کا قیام 2012 میں لایا گیا تھا۔ اس سے پہلے یہ ولی خان یونیورسٹی مردان کے ایک کیپمس کے طور پر کام کر رہا تھا تاہم بعد میں اسے باچا خان یونیورسٹی میں تبدیل کیا گیا۔ یہ یونیورسٹی تقریباً پندرہ شعبہ جات پر مشتمل ہے جس میں تقریباً پانچ سو سے زائد سٹاف ممبران تعینات ہیں۔ تقریباً دو سو کنال کے رقبے پر پھیلے ہوئے اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر سابق عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں تعینات کیے گئے تھے۔

اسی بارے میں