’منگل کو کوئی جہاز نہیں اڑے گا‘

Image caption قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کے ملازمین اس کی نج کاری کی مخالفت کر رہے ہیں

پاکستان کی قومی ایئر لائن کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ منگل کو پی آئی اے کا کوئی بھی طیارہ پرواز نہیں کرے گا، جبکہ حکومت نے احتجاج روکنے کے لیے لازمی سروس ایکٹ نافذ کر دیا ہے۔

پی آئی اے کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے حکومت کو مطالبات کے حل کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی، جس عرصے میں حکومت نے سٹریٹیجک پارٹنرشپ کا فیصلہ چھ ماہ کے لیے موخر کر دیا جبکہ نجکاری کا فیصلہ برقرار رکھا ہے، جس کے خلاف ملک بھر میں پی آئی اے کے دفاتر میں احتجاج جاری رہا۔

کراچی ایئرپورٹ پر پی آئی اے کے مرکزی دفتر میں بدھ کو بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا احتجاج دوسرے دن بھی جاری رہا، جس میں پی آئی اے کے تمام شعبوں بشمول انجنیئرنگ شعبے کے ملازمین نے شرکت کی اور اعلان کیا کہ منگل کو کوئی بھی پرواز روانہ نہیں ہوگی۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نے پی آئی اے پر لازمی سروس ایکٹ سنہ 1952 نافذ کردیا ہے جس کے تحت پی آئی اے میں کام کرنے والے ملازمین کسی طور پر بھی ہڑتال نہیں کرسکیں گے۔

Image caption ملازمین نے اپنے مطالبے کے حق میں کئی مظاہرے کیے ہیں

لازمی سروس ایکٹ چھ ماہ کے لیے نافذ کیا گیا ہے اور اس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے اور ہڑتال پر جانے والے کسی بھی ملازم کو ایک سال قید اور جرمانہ بھی ہوسکتا ہے۔ سول ایوی ایشن ڈویژن نے اس ایکٹ کو نافذ کرنے کے لیے وزیر اعظم کو سمری بھیجی تھی جسے منظور کرلیا گیا۔

چند روز قبل حکومت پی آئی اے کے ایک نمائندہ وفد کے ساتھ ملاقات کے بعد اعلان کیا تھا کہ حکومت چھ ماہ کے لیے پی آئی اے کی نجکاری موخر کرر ہی ہے۔ حکومت نے پی آئی اے کے ملازمین سے کہا تھا کہ وہ ہڑتال سے واپس آجائیں تاہم ابھی تک ملازمین نے حکومت کی اس درخواست کا مثبت جواب نہیں دیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے پیر کے روز اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت قومی ائرلائن کو بہتر انداز میں چلانا چاہتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ہڑتال کرنے والے ملازمین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہڑتال ختم نہ کرنے کی صورت میں حکومت نے پائلٹس اور دیگر عملے کا متبادل بندوبست کیا ہوا ہے۔

دریں اثنا ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو امید تھی کہ حکومت سے مذاکرات کے لیے کوئی شکل نکل آئےگی وزیر اعظم اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کسی وفد کو بھیجیں گے لیکن حالیہ حکومتی اقدام کے بعد صورتحال میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

Image caption حکومت کی طرف سے پی آئی اے کی نج کاری کے بارے میں کئی بار وضحات کی جا چکی ہے

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ کا کہنا ہے کہ کل طیارے پرواز نہیں کریں گے حکومتی قانون کی وجہ سے اگران پر لاٹھی چارج یا ڈنڈے برسائے گئے تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں، صبح کو دفاتر کی مکمل تالا بندی ہوگی اور وہ جناح ٹرمینل کی طرف جائیں گے ۔

سہیل بلوچ کا کہنا تھا کہ پر امن احتجاج ان کا حق ہے اگر لازمی سروس ایکٹ کے ذریعے اس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ قابل قبول نہیں ہوگا موجودہ صورتحال میں بہترین راستہ یہ ہے کہ فریقین میز پر بیٹھ کر معاملات حل کریں اور یہ بات اپنے دماغ سے نکال لیں کہ ملازم قومی پرچم بردار فضائی کمپنیوں کو فروخت کرنے دیں گے۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ یہ تاثر یہ دیا جا رہا ہے کہ پی ائی اے حکومت پر ایک بوجھ ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔