علیحدگی پسندوں کی کال پر ہڑتال کرنے والوں کی دکانیں ’سِیل‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے مکران ڈویژن میں علیحدگی پسند بلوچ قوم پرست جماعت کی ہڑتال کی کال پر دکانیں بند کرنے والے متعدد دکانداروں کی دکانیں سِیل کر دی گئی ہیں۔

منگل سے شروع ہونے والی تین روزہ ہڑتال کی کال بلوچ نیشنل موومنٹ نے پارٹی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر منان بلوچ سمیت پانچ افراد کی ہلاکت کے خلاف دی تھی۔

ان افراد کو کوئٹہ کے قریب مستونگ میں سکیورٹی فورسز نے ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا تھا۔

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے ڈاکٹر منان بلوچ کو کالعدم عسکریت پسند تنظیم بلوچستان لبریشن فرنٹ کا کمانڈر قرار دیا تھا۔

ان کی ہلاکت کے خلاف بی این ایم کی کال پر منگل کو کیچ،گوادر ، پسنی سمیت بعض دیگر علاقوں میں ہڑتال رہی۔

ہڑتال کی کال پر دوکانیں بند کرنے پر حکام کی جانب سے متعدد دکانوں کو سیل کر دیا گیا۔

تربت شہرسے تعلق رکھنے والے ایک دکاندار نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں40 کے قریب دکانوں کو سیل کیا گیا ہے۔

دکاندار کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کے اہلکاروں نے انھیں کہا کہ وہ اس ضمانت پر ان کی دکانوں کو کھولیں گے کہ وہ آئندہ ہڑتال نہیں کریں گے۔

تاہم جب دکانوں کو سیل کرنے کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر کیچ سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے دکانوں کو سیل کرنے کے الزام کو مسترد کیا۔

واضح رہے کہ بلوچستان کی بلوچ آبادی والے علاقوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ سخت گیر موقف کی حامل قوم پرست جماعتوں کی کال پر ہڑتال کرنے والوں کی دکانوں کو سیل کیا گیا۔

اسی بارے میں