’ویرانے میں بھی مہمان نوازی کر سکتے ہیں‘

Image caption گذشتہ دنوں مستونگ میں ڈاکٹر منان کو چار دیگر ساتھیوں سمیت ہلاک کیا گیا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر آواران میں دو کمروں پر مشتمل گھر میں چند صحافی اور درجن سے زائد رضاکار موجود تھے جن کا موضوع زلزلے کے بعد ہونے والی تباہ کاری اور رلیف کارروایاں تھیں۔

28 ستمبر 2013 کی اس شام چائے کے ساتھ رضاکار اپنے تجربات بتا کر رہے تھے، اسی دوران مشکے گئے ہوئے ساتھی صحافی بھی واپس آئے اور بتایا کہ وہاں صورتحال مزید سنگین ہے آپ کو وہاں جانا چاہیے۔

ہم اس دن کی ریڈیو رپورٹ بھیج کر ساتھیوں کے ساتھ گپ شپ کر رہے تھے کہ ساڑھے آٹھ بجے موبائل کی گھنٹی بجی اور دوسری طرف سے آواز آئی کہ ’میں بلوچ نیشنل موومنٹ کا سیکریٹری ڈاکٹر منان بول رہا ہوں ہم آپ کی رپورٹیں ریڈیو پر سنتے ہیں یہاں آئے ہیں تو کل مشکے ضرور آئیں۔‘

ڈاکٹر منان کون ہیں؟ یہ میں نہیں جانتا تھا اس لیے سینیئر ساتھیوں اور مقامی لوگوں سے دریافت کیا۔ پتہ چلا وہ بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سربراہ ڈاکٹر اللہ نذر کے دوست اور کلاس فیلو ہیں تعلیم اور سیاست کی منزلیں دونوں نے ساتھ طے کی تھیں۔ سنہ 1985 میں بلوچ سٹوڈنٹس فیڈریشن میں ساتھ شمولیت کی اور ساتھ ہی طب کا شعبہ اختیار کیا۔

بولان میڈیکل کالج سے سنہ 1999 میں ایم بی بی ایس کے ڈگری حاصل کرنے کے بعد ڈاکٹر اللہ نذر نے سیاسی سفر جاری رکھا لیکن ڈاکٹر منان نے آواران کے پسماندہ علاقے جھاؤ میں طبی خدمات سرانجام دینا شروع کردیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ستمبر 2013 میں آواران میں زلزلے سے 350 سے زائد افراد کی ہلاکت اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی

بزرگ بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد جب بلوچستان میں سیاست نے کروٹ بدلی تو ڈاکٹر منان دوبارہ سیاست میں سرگرم ہوگئے اور سنہ 2008 میں انھوں نے بلوچ نیشنل موومنٹ میں شمولیت اختیار کی بعد میں پارٹی کے سربراہ غلام محمد بلوچ کی لاش برآمد ہونے کے بعد وہ بطور رہنما سامنے آئے۔

سنہ 2013 میں زلزلے نے یہ موقع فراہم کیا تھا کہ ہم مشکے کا چکر لگائیں، جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہاں ریاستی گرفت کمزور ہوچکی تھی۔ صبح کو ہم آواران سے روانہ ہوئے اور تقریباً چار گھنٹے کچے راستوں سے سفر کرتے ہوئے مشکے گجر پہنچ گئے۔

مشکے شہر میں تقریباً تمام دکانیں اور گھر مٹی کا ڈھیر بن چکے تھے شہر میں داخل ہوتے ہی ایک موٹر سائیکل سوار نے نام پوچھا اور کہا کہ اس کے پیچھے چلیں، وہ ہمیں شہر کے آخری حصے میں لے گیا جہاں خیمہ نما طبی کیمپ موجود تھا اور زخمی مریض زمین پر دریوں پر لیٹے ہوئے تھے۔

چند منٹ کے بعد دو تین موٹر سائیکل سوار آگئے اور ہمیں چلنے کے لیے کہا ایک موٹر سائیکل پر میں تو دوسرے پر کیمرہ مین سوار ہوگیا، غیر ہموار پہاڑی راستے کے باوجود موٹر سائیکلوں پر ان نوجوانوں کی گرفت کمال کی تھی۔

چند منٹ کے سفر کے بعد ایک جگہ جاکر دونوں موٹر سائیکل سوار رک گئے وہاں چند فاصلے کے ساتھ چھوٹی چھوٹی تین چار جھگیاں بنی ہوئی تھیں، سانولے رنگ کے ایک شخص نے باہر نکل کر ہمارا استقبال کیا۔

یہ ہی شخص ڈاکٹر منان تھا جس نے پرانے سینڈل پہن رکھے تھے جبکہ قمیض شلوار کا جوڑا بھی کافی بوسیدہ تھا، ایک سبز رنگ کا رومال بھی ان کے ساتھ تھا ان کا انداز اور حلیہ سندھ میں جئے سندھ کے مقبول رہنما عبدالواحد آریسر جیسا تھا اور بعد میں معلوم ہوا کہ آریسر کی طرح ڈاکٹر منان بھی وسیع مطالعہ رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر منان کی ہلاکت مقابلے میں ہوئی

ان دنوں بلوچ آزادی پسند تنظیموں نے اعلان کیا تھا کہ وہ ریاستی اداروں کو زلزلے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کسی کام میں شریک ہونے نہیں دیں گے، ہم نے بھی یہ سوال ڈاکٹر منان سے کیا تھا اور کہا کہ کیا وہ اپنے لوگوں کے ساتھ دشمنی کر رہے؟

ڈاکٹر منان کا کہنا تھا کہ وہ فوج کی کسی بھی قسم کی مدد قبول نہیں کریں گے۔

اس انٹرویو کے دوران سلیمانی چائے پیش کی گئی اور ڈاکٹر منان نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس ویرانے میں ہم آپ کی یہ مہمان نوازی کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر منان اپنی سوچ اور خیال میں ترقی پسند نظر آئے کبھی وہ مارکس اور لینن کی سیاسی تھیوری بتاتے تو کبھی چیکو سلاواکیہ کے صحافی اور عالمی شہرت یافتہ کتاب ’نوٹس فرام گیلوز‘ کے مصنف جیولیس فیوچک کی حوالے دیتے۔

سورج غروب ہونے سے پہلے ہمارا ارادہ مشکے سے نکلنے کا تھا لیکن ڈاکٹر منان کی خواہش تھی کہ نشست جاری رہے اور ہم صبح کو جائیں لیکن ہم دوبارہ کبھی آنے کا کہہ کر نکل آئے۔

گذشتہ دنوں مستونگ میں ڈاکٹر منان کو چار دیگر ساتھیوں سمیت ہلاک کیا گیا۔ صوبائی وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے دعویٰ کیا کہ ان کی ہلاکت مقابلے میں ہوئی، تاہم بلوچ نیشنل موومنٹ کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر منان بلوچ کا کسی مسلح تنظیم سے تعلق نہیں تھا، وہ ایک سیاسی لیڈر کی حیثیت سے عوام کے درمیان رہ کر ان کی تربیت کرتے تھے۔

ڈاکٹر منان زیر زمین جدوجہد کے برعکس سرفیس سیاست پر یقین رکھتے تھے ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ سرفیس سیاست ناکام ہوگئی تو ہمارا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔‘

اسی بارے میں