فلائٹ آپریشنز معطل، ’بات چیت کرنے کی کوششیں جاری‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

نجکاری کے وزیر مملکت محمد زبیر نے پی آئی اے کے ملازمین کے احتجاج کے باعث فلائٹ آپریشنز معطل ہونے پر کہا ہے کہ حکومت ملازمین سے بات کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ’کچھ اچھا ہی ہو گا‘۔

انھوں نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں سب سے اہم بات ملازمین کی بہتری ہے۔ ’جو لوگ ملازمین کی نمائندگی کر رہے ہیں ان سے استدعا ہے کہ بیٹھ کر سن تو لیں کہ منصوبہ کیا ہے۔ اگر اس کے بعد بھی یہ منصوبہ پسند نہ آئے توپھر احتجاج کرنا آپ کا حق بنتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں کو دعوت دیتی ہے کہ نجکاری کے عمل کا حصہ بنیں اور شفافیت کو یقینی بنائیں۔

پی آئی اے ملازمین کے احتجاج میں شدت، فلائٹ آپریشنز معطل

دوسری جانب سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سید قائم علی شاہ نے کہا کہ پی آئی اے کے ملازمین پر تشدد اور فائرنگ میں ہلاکتوں کی انکوائری کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ڈی آئی جی اور دو ایس ایس پیز پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کہنے پر عدالتی تحقیقات کا فیصلہ واپس لیا گیا کیونکہ ملازمین کا خیال تھا کہ اس سے تحقیقات میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

اس سے قبل پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی مجوزہ نجکاری کے منصوبے کے خلاف ادارے کے ملازمین کی جانب سے ہڑتال اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے بدھ کو بھی ملک بھر میں فضائی آپریشنز بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

کمپنی کے ترجمان دانیال گیلانی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے بدھ کو ملک کے کسی بھی ایئرپورٹ سے پی آئی اے کی کوئی پرواز روانہ نہیں ہو سکی ہے۔

بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کو پی آئی اے کے فضائی آپریشن مکمل طور پر معطل ہونے کے علاوہ ٹکٹنگ، کوریئر اور کارگو کے دفاتر بھی بند کر دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ فضائی آپریشنز بند ہونے کی وجہ سے ہوائی اڈے پر طیارے کھڑے کرنے کی جگہ بھی باقی نہیں رہی ہے۔

جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر بدھ کو بھی پی آئی اے کا فضائی آپریشن معطل ہے اور گذشتہ شب پائلٹس کی تنظیم پالپا نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

ان کے مطابق بدھ کو ملازمین پی آئی اے کے مرکزی دفتر کے باہر جمع ہوئے جہاں گزشتہ ایک ہفتے سے احتجاجی دھرنا جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

منگل کے برعکس بدھ کو ملازمین نے اپنا احتجاج مرکزی دفتر تک محدود رکھا ہے تاہم رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری آج بھی واٹر کینن کے ہمراہ موجود ہے۔

سندھ اسمبلی میں صوبے کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے پی آئی اے کے ملازمین پر تشدد کے خلاف قرار داد مذمت بھی پیش کی گئی ہے جبکہ سندھ اسمبلی کے اراکین بھی ملازمین سے اظہار یکجہتی کے لیے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے۔

پی آئی اے کے ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنے ہلاک شدہ ساتھیوں کی لاشوں سمیت دھرنا دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔ تاہم وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ کی سربراہی میں ملاقات کرنے والے وفد سے درخواست کی تھی کہ یہ قدم نہ اٹھایا جائے اور وہ وزیر اعظم سے بات کریں گے۔

مظاہرین کی آمد کے خدشے کے پیشِ نظر کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے ہوائی اڈوں پر سکیورٹی کے انتظامات کو بھی مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

پی آئی اے کے آپریشنز کی بندش کی وجہ سے مسافروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے اور مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق نجی فضائی کمپنیوں نے اس موقع پر اپنے کرایوں میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے۔

اسی بارے میں