کراچی ایئرپورٹ میں احرام کے ساتھ پانچ روز

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی کے ایئرپورٹ کے احاطے میں واقع ایئرپورٹ ہوٹل میں ان دنوں چہل پہل ہے، کئی بزرگ احرام پہنے ہوئے ٹہلتے نظر آتے ہیں، ان بزرگوں سمیت ساڑھےتین سو کے قریب مسافروں کو اندرون ملک اور بیرون ملک سفر کرنا تھا لیکن پی آئی اے کے فضائی آپریشن معطل ہونے کی وجہ اب وہ بے بس ہوگئے ہیں۔

ڈیرہ غازی خان کے ایک بزرگ نے بتایا کہ انھوں نے روپیہ روپیہ جوڑا تھا تاکہ عمرہ ادا کرسکیں لیکن گذشتہ پانچ روز سے ہوٹل میں موجود ہیں اور پیچھے رشتے دار پریشان ہیں اور بار بار ٹیلیفون کر رہے ہیں۔

اس بزرگ نے گذشتہ پانچ روز سے سفید احرام ہی پہن رکھا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان سمیت کئی مسافروں کے کپڑے و دیگر سامان بک کردیا گیا تھا جو واپس بھی نہیں مل رہا ہے، اگر پی آئی اے کی پرواز نہیں جا رہی تو انھیں کسی اور طیارہ بھیج دیں۔

رحیم یار خان کے رہائشی منیر احمد کی پریشانی سب سے زیادہ نظر آرہی تھی جن کے سعودی عرب میں ویزے کی مدت ختم ہونے کو تھی۔ انھوں نے بتایا کہ آٹھ فروری کے بعد وہ سعودی عرب میں نہیں داخل نہیں ہوسکیں گے اس لیے وہ دوسری فضائی کمپنی کے ذریعے جا رہے ہیں حالانکہ ان کا سامان ابھی نہیں مل سکا جبکہ بتایا بھی نہیں جارہا کہ سامان کی واپسی کب تک ممکن ہے اس میں جو کھانے کی اشیا تھیں وہ تو یقیناً ضائع ہوچکی ہوں گی۔

Image caption ایک بزرگ نے بتایا کہ انھوں نے روپیہ روپیہ جوڑا تھا تاکہ عمرہ ادا کرسکیں لیکن گذشتہ پانچ روز سے ہوٹل میں موجود ہیں

اس ہوٹل میں کئی خاندان بھی موجود ہیں، جن میں سے بعض نے بچوں کے کپڑوں سمیت دیگر ضرورت اشیا کی دوبارہ خریداری بھی کی ہے۔ نظام الدین سکھر سے آئے تھے انھوں نے بتایا کہ دواؤں کے علاوہ انھوں نے کچھ رقم بھی بیگ میں احتیاط کے طور پر رکھ دی تھی اب دونوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

پی آئی اے کا فضائی آپریشن معطل ہونے کے بعد سول ایوی ایشن اتھارٹی نے نجی کمپنیوں کو پروازیں بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ ان کمپنیوں نے پریشان حال مسافروں کی جیب پر اور بوجھ ڈال دیا ہے۔

ذیشان احمد ٹریول ایجنٹس کے چکر لگا رہے ہیں۔ انھیں اسلام آباد جانا تھا۔ ان کے مطابق ہڑتال کی وجہ سے نجی کمپنیوں نے کرائے بڑھا دیے ہیں جو ٹکٹ پہلے نو ہزار رپے کا ہوتا تھا وہ اس وقت کم سے کم 19 ہزار کا فروخت ہو رہا ہے۔

پاکستان میں نجی فضائی کمپنیوں کے طیاروں کی تعداد پی آئی اے کے مقابلے میں کم ہے۔ ٹریول ایجنٹ ندیم شریف کا کہنا ہے کہ جن مسافروں نے پی آئی اے کے ٹکٹ لیے تھے اب انھیں دوسری فضائی کمپنیوں میں ایڈجسٹ کیا جارہا ہے لیکن رقم کا بڑا فرق ہے اور یہ بوجھ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔

پاکستان میں ریلوے کا سفر کم خرچ ضرور ہے لیکن سہولیات کے فقدان اور ٹرینوں کی آمد رفت میں تاخیر کی وجہ سے کئی لوگ اس سے گریز کرتے ہیں۔ لیکن مجبوری لوگوں کو اس طرف کھینچ لائی ہے۔

Image caption منیر احمد کی پریشانی سب سے زیادہ نظر آرہی تھی جن کے سعودی عرب میں ویزے کی مدت ختم ہونے کو تھی

لاہور ریلوے سٹیشن سے کراچی کے لیے روانہ ہونے والے ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ گھنٹے میں کراچی پہنچنے والا مسافر 18 سے 20 گھنٹے میں پہنچے گا، وہ جو ملاقاتیں مجوزہ تھیں وہ ساری کی ساری متاثر ہوئی ہیں، اس سے ظاہر ہے کہ انھیں اور کمپنی دونوں کو ہی نقصان پہنچ رہا ہے۔

کراچی میں پی آئی اے کے مرکزی دفتر میں ملازمین کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا، یہاں ملازمین کی آمدرفت جاری رہتی ہے مرد سائے کے ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں جبکہ خواتین کے لیے دو درجن سے زائد کرسیاں لگائی ہوئی ہیں۔ دوپہر کو یہاں شرکا کے لیے بریانی کا بندوبست ہوتا ہے جس میں پہلی اولیت صحافیوں کو دی جاتی ہے۔

ان سراپا احتجاج ملازمین کا پہلے ایک ہی مطالبہ تھا کہ نجکاری کا فیصلہ واپس لیا جائے لیکن اب ان کا دوسرا مطالبہ بھی ہے کہ ان کے دو ساتھیوں کے قتل کی تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جائے۔

ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ملازمین پر تشدد اور دو ساتھیوں کی ہلاکت کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے ملیر سیشن کورٹ میں درخواست دی تھی، جس میں وزیر اعظم کے ہوا بازی کے بارے میں مشیر شجاعت عظیم، وفاقی وزیر پرویز رشید، سینیٹر مشاہداللہ اور ریٹائرڈ بریگیڈیئر آصف کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی گذارش کی گئی تھی۔ عدالت نے پولیس کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کرے اگر معاملہ قابل دست ہو تو مقدمہ درج کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کراچی میں پی آئی اے کے مرکزی دفتر میں ملازمین کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا

وفاقی وزیر پرویز رشید کہتے ہیں ہڑتال غیر قانونی ہے لیکن تحقیقات ضرور ہوگی اور قاتلوں کی تلاش جاری ہے۔

’سندھ حکومت تحقیقات کر رہی ہے، قانون نافذ کرنے والے ادارے جنھوں نے بڑے بڑے مجرموں کو اپنی گرفت میں لیا ہے وہ بھی اپنے کام میں مصروف ہیں قاتل بچ نہیں پائیں گے۔‘

دریں اثنا جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سہیل بلوچ کے مطابق جس شخص کو ویڈیو میں مشکوک ظاہر کیا جارہا ہے وہ پی آئی اے کا ملازم ہے جس نے شیلنگ سے بچنے کے لیے چہرے پر رومال ڈال دیا تھا۔

اسی بارے میں