مولانا عبدالعزیز کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے پر پولیس کو نوٹس

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عدالت نے پولیس حکام سے اس حوالے سے 11 فروری تک جواب طلب کر لیا ہے

اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف سوشل میڈیا پر پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے خلاف ویڈیو شیئر کرنے پر مقدمہ درج نہ کرنے کی درخواست پر اسلام آباد پولیس حکام کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔

مقامی عدالت میں یہ درخواست کراچی کے رہائشی اور سول سوسائٹی کے ایک رکن خرم ذکی کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔

اس درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جامعہ حفصہ کے فیس بک پیج پر آئی ایس آئی کے خلاف ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس کا مقصد فوج کے خفیہ ادارے کے خلاف فرقہ واریت کی بنیاد پر نفرت پھیلانا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے اس سے متعلق تھانہ آبپارہ میں لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کے خلاف مقدمہ درج کروانے کے لیے 29 جنوری کو درخواست دی تھی تاہم مقامی پولیس اس ضمن میں تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے اور ابھی تک اس بارے میں کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔

عدالت نے پولیس حکام سے 11 فروری تک جواب طلب کر لیا ہے۔

اس درخواست کی تفتیش پر مامور پولیس انسپکٹر میاں یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس معاملے کی چھان بین کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس بارے میں پولیس کی لیگل برانچ سے رائے بھی لی جائے گی جس کی روشنی میں مقدمہ درج کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس درخواست کی اگلی سماعت سے پہلے تفتیش مکمل کرکے عدالت کو آگاہ کیا جائے گا۔

تھانہ آبپارہ میں اب بھی لال مسجد کے سابق خطیب کے خلاف دو مقدمات میں تفتیش جاری ہے جس میں شر انگیز تقاریر کرنے اور ایک شہری کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینے کے مقدمات ہیں۔

ان دونوں مقدمات میں عدالت نے 25 فروری تک مولانا عبدالعزیز کی عبوری ضمانت منظور کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں