’نواز حکومت کا کیا کریں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایسی حکومت کا کیا علاج جو سادہ اکثریت لے یا دو تہائی مگر اس کا احساسِ عدم تحفظ ختم ہونے میں ہی نہیں آتا۔ جس پر عوام نے تین بار اعتماد کیا مگر عوام پر اسے ایک بار بھی اعتماد جیسا اعتماد نہیں ہوا

نواز شریف کی پہلی حکومت خود ان کے اس جملے نے گرائی ’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا‘ اور پھر غلام اسحاق خان کے ساتھ ساتھ انھیں بھی جنرل (ریٹائرڈ) وحید کاکڑ کی ڈکٹیشن لینا پڑی۔

نواز شریف کی دوسری حکومت چوہدری نثار علی خان اور ان کے بھائی افتخار علی خان کے اس مشورے نے گروائی کہ پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف بنا لیتے ہیں اردو سپیکنگ بندہ ہے، بندہ بن کے رہے گا۔

اب نواز شریف کے تیسری دور میں کڑا باہمی مقابلہ ہے کہ ’کون پاؤں میں پہلے گولی مارے گا۔‘

عمران خان کے ناکام دھرنے کے بعد نواز شریف، نثار علی خان، پرویز رشید اور ہم نواؤں کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح حزبِ اختلاف کو اپنے خلاف متحد کر لیا جائے۔ اب اگر پی آئی اے کا دودھ بھی حزبِ اختلاف کی بلی پینے کے بجائے پنجہ مار کے الٹ دے تو نواز شریف کی قسمت۔

کیا آپ نے مسلم لیگ نواز کے علاوہ کسی اور جماعت کو دیکھا ہے جو برسرِ اقتدار آتے ہی ڈی ریل ہونے کی پرخلوص کوششیں شروع کر دے اور قسمت اسے ہر موڑ پر ہر بار پھسلنے سے بچاتی رہے؟

مجھے معجزوں پر یقین نہیں مگر نواز شریف تو سامنے کی مثال ہیں۔ وہ اور ان کے نورتن مخالف سمت میں جاتے تیر کو بھی اڑ کے پکڑ کر اپنی جانب موڑنے کے فن میں یدِ طولی رکھتے ہیں۔

بندہ کیلے کے چھلکے سے پھسلے تو اگلی بار احتیاط سے چلتا ہے مگر شریف حکومت کی نگاہیں ہر بار اسی چھلکے کو بے تابی سے ڈھونڈتی رہتی ہیں۔

لہذا یہ سوچنا تو ممکن ہی نہیں کہ چلو اگلی بار مطلق العنان بننے کے شوق کو لگام دوں گا، اپنے پانچ پیاروں کے علاوہ کسی چھٹے کے مشورے پر بھی کان دھروں گا، کم نگہی کے باوجود اہم قومی فیصلوں پر وسیع النظری سے قدم جما کر عمل کروں گا، گڈ گورننس کے کلچر کو بلاامتیازِ رشتہ و تعلق و رسوخ و پیسہ پھیلانے کی کوشش کروں گا، جہاں پیار سے کام نکل سکتا ہو وہاں جٹ جپھا نہیں ماروں گا اور جہاں ڈنڈے کی ضرورت ہو وہاں مروت اور دباؤ میں نہیں آؤں گا ِ( مثلاً مولانا عبدالعزیز کیس)۔ نیز مکھی کو ایٹم بم سے مارنے کا نہیں سوچوں گا ( مثلاً ماڈل ٹاؤن لاہور، مثلاً جناح ٹرمینل کراچی تشدد کیس)۔

آپ تینوں شریفانہ ادوار دیکھ لیں، اگر انداز و سوچ و عمل میں کوئی بنیادی فرق محسوس کریں تو اس فقیر کی بھی فوری تعلیم کیجیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بندہ کیلے کے چھلکے سے پھسلے تو اگلی بار احتیاط سے چلتا ہے مگر شریف حکومت کی نگاہیں ہر بار اسی چھلکے کو بے تابی سے ڈھونڈتی رہتی ہیں

ایسی حکومت کا کیا علاج جو سادہ اکثریت لے یا دو تہائی مگر اس کا احساسِ عدم تحفظ ختم ہونے میں ہی نہیں آتا۔ جس پر عوام نے تین بار اعتماد کیا مگر عوام پر اسے ایک بار بھی اعتماد جیسا اعتماد نہیں ہوا۔

ایسی حکومت جو ہر بار تعلیم و صحت اور نظامِ انصاف کی اصلاح کے تھینک لیس مگر طویل المیعاد فوائد کو ذہن میں رکھنے کے بجائے شو کیس منصوبوں پر اپنی مغلئی توانائی صرف کر دے اور پھر ان تاج محلاتی منصوبوں کے بوجھ سے اتنی ہانپ جائے کہ صحت، تعلیم و انصاف وہیں انہی حالوں پہ پڑے رہ جائیں اور ترکے میں بس وضاحتیں اور صفائیاں رہ جائیں۔

ہاں مگر اس المیے کا کیا کریں کہ لیگی صرف مار رہے ہیں باقی تو مارنے کے بعد مردے کے کپڑے بھی اتار لیتے ہیں۔

کچھ کے بارے میں سنا ہے اور کچھ کو دیکھا بھی ہے۔

تو کیا فرد کا ہی نفسیاتی علاج ہوتا رہے گا؟ حکومتوں کا کب ہوگا؟

اسی بارے میں