’پی آئی اے کے ہڑتالی ملازمین کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف کا کہنا تھا کہ مفاد پرستی کی سیاست کرنے والے عناصر نہیں چاہتے کہ پی آئی اے ترقی کرے

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت قومی فضائی کمپنی پی آئی اے کی نجکاری کے خلاف ہڑتال کرنے والے ملازمین کے سامنے سر نہیں جھکائے گی۔

مظفر آباد میں جمعے کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کے دوران اس بحران کا ذکر کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت قومی ایئر لائن کی ترقی چاہتی ہے اور ملازمین کی ہڑتال بلاجواز اور غیرقانونی ہے۔

پی آئی اے کے دعوؤں میں کتنی حقیقت: ویڈیوجوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما کی ڈی جی رینجرز سے ملاقات

انھوں نے کہا کہ اصولوں اور قومی مفاد کے خلاف کوئی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ مفاد پرستی کی سیاست کرنے والے عناصر نہیں چاہتے کہ پی آئی اے ترقی کرے۔

انھوں نے کہا کہ ’ملک میں صرف سیاست برائے سیاست نہیں ہونی چاہیے، مسائل کا حل بھی ہونا چاہیے۔‘

دوسری جانب نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنما سہیل بلوچ نے ڈی جی رینجرز سے آج ملاقات کی ہے جس میں دو ملازمین کی ہلاکت کی تحقیقات پر بات چیت کی گئی۔

ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ ڈی جی رینجرز نے انھیں دو ملازمین کی ہلاکت کے واقعے کی منصفانہ تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے اور کہا ہے کہ ملزمان کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

ادھر ادارے کی نجکاری کے خلاف کراچی میں پی آئی اے کے مرکزی دفتر کے باہر ملازمین کا احتجاج جمعے کو بھی جاری ہے اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر ہونے والی ہڑتال کی وجہ سے لگاتار چوتھے دن پی آئی اے کے فلائٹ آپریشنز معطل ہیں۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

پی آئی اے ملازمین کا احتجاج 20 جنوری کو قومی اسمبلی میں پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے بل آنے پر شروع ہوا تھا۔

ادارے کے ترجمان دانیال گیلانی کا کہنا ہے کہ ’گیارہ دنوں میں پی آئی اے کو 2 ارب سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔‘

جمعرات کو انھوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ اب پی آئی اے کے اپنے فلیٹ میں شامل تمام طیارے پاکستانی ایئرپورٹس پر کھڑے ہیں اور کوئی بھر پرواز اڑان نہیں بھر رہی۔

اس احتجاج میں دو دن قبل اس وقت شدت آئی تھی جب کراچی میں پی آئی اے کے دو ملازمین دورانِ احتجاج گولیاں لگنے سے ہلاک ہوگئے تھے۔

ملازمین کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے ان ہلاکتوں کے لیے رینجرز کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ رینجرز حکام اس الزام سے انکار کر رہے ہیں۔

اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کراچی میں رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ہڑتال اور احتجاج کی وجہ سے ہزاروں مسافروں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہےاور جمعرات کو پی آئی اے کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ ایسے تمام مسافر جنھوں نے مختلف روٹس پر پی آئی اے کے کنفرم ٹکٹ خرید رکھے ہیں انھیں مختلف فضائی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کے تحت سفر کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

یہ 2011 کے بعد پہلی بار ہے کہ پی آئی اے کا تمام آپریشن مکمل طور پر معطل ہوا ہے۔

2011 میں یہ آپریشن چار دن بند رہنے کے بعد اُس وقت شروع ہوا تھا جب حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے تمام مطالبات مان لیے تھے۔

اسی بارے میں