افغان مصالحتی عمل کا روڈ میپ کیا ہوگا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption افغانستان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے بامعنی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ یہ شدت پسندوں کے موسم بہار کے نئے حملے سے قبل کسی نتیجے پر پہنچیں

افغانستان میں قیام امن کے لیے مصالحتی عمل کیسے شروع کیا جائے اس بنیادی سوال کے جواب کے حصول کے لیے ایک مرتبہ پھر چار ممالک کے نمائندے سر جوڑ کر بیٹھے ہیں۔ ایک ماہ کے اندر اس تیسرے اجلاس کا ہدف بقول خارجہ امور سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز کے مطابق افغان طالبان کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے ایک عدد ’روڈ میپ‘ تیار کرنا ہے۔ اس ’سڑک کے نقشے‘ کی شکل و صورت کیا ہوگی؟

’افغانستان کے مفاہمتی عمل کی بھرپور حمایت کرتے ہیں‘

افغانستان، پاکستان، امریکہ اور چین کے چار ملکی رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرتاج عزیز نے توقع کا اظہار کیا کہ سنیچر کے اجلاس میں روڈ میپ کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ ’مجھے امید ہے کہ یہ گروپ جذبے اور عزم کے ساتھ اس عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کا جتنا جلد ممکن ہوسکے اہتمام کرسکے گا۔‘

یہاں انھوں نے بھی افغان حکام کی بڑھتی ہوئی بےچینی کا بظاہر جواب دیتے ہوئے کہا کہ انھیں افغان حکومت کی تشویش کا ادراک ہے، بڑھتا ہوا تشدد اصل چیلنج ہے۔ ’اس تشدد میں کمی امن مذاکرات کا اہم نکتہ ہوں گے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ عمل پرتشدد کارروائیوں میں قابل ذکر کمی کا سبب بنے گا۔‘

افغانستان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے بامعنی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ یہ شدت پسندوں کے موسم بہار کے نئے حملے سے قبل کسی نتیجے پر پہنچیں۔ ان کے بقول وقت کم اور مقابلہ انتہائی سخت ہے۔

اس طویل قضیے کے حل کے لیے وہ روڈ میپ کیا ہوگا؟ اس کی باضابطہ تفصیل تو کسی ملک نے ظاہر نہیں کی ہے لیکن آج کی سرتاج عزیز کی تقریر میں اس بابت پاکستان کی سوچ کسی حد تک واضح ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مصالحتی عمل کے لیے ایک واضح اور قابل عمل روڈ میپ ضروری ہے۔

’یہ مصالحتی عمل کے مختلف مراحل کی شناخت کرے اور ہر مرحلے میں حاصل کی جانے والی کامیابی کا حساب رکھے۔ یہ اس عمل کے فریقین کے مصالحتی عمل سے متعلق عزم کا اظہار کرے۔ ہمیں اس امن کے عمل میں اقدامات کا تعین، فی الفور مشترکہ فیصلوں اور چاروں ممالک کے درمیان موثر رابطے بھی رکھنے ہوں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پہلے مرحلے میں مذاکرات کے لیے تیار طالبان کی شناخت اور ان سے کیا بات کس نے کرنی ہے پر مشتمل ہوگا

اس عمومی بیان سے چند باتیں تو واضح ہیں لیکن زیادہ شاید وہ بھی نہیں بتانا چاہتے تھے۔ لیکن عام تاثر یہی ہے کہ اس روڈ میپ کے تین مراحل ہوں گے۔ پہلے مرحلے میں مذاکرات کے لیے تیار طالبان کی شناخت اور ان سے کیا بات کس نے کرنی ہے، پر مشتمل ہوگا۔ دوسرے مرحلے میں مذاکرات کے لیے تیار عناصر سے کن شرائط پر بات کی جائے گی اور اعتماد سازی کے لیے اقدامات کا تعین ہوگا جبکہ تیسرے مرحلے میں افغان حکومت شدت پسندوں کو باضابطہ مذاکرات کی دعوت دے گی۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ سلسلہ اپریل کے وسط تک مکمل ہوگا۔

دوسری جانب طالبان نے قطر میں مصالحتی عمل سے متعلق گذشتہ دنوں چند اشارے دیے ہیں۔ ان میں سب سے اہم ان کے بقول اس قضیے کا اصل فریق یعنی امریکہ ہے اور وہ اس کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو ترجیح دے سکتا ہے۔ اس پیشکش کو باقی فریق کس نظر سے دیکھیں گے؟ کیا اصل مسئلہ محض امریکہ اور طالبان کا ہے یا یہ اس جاری عمل کو ابہام میں ڈالنے کی ایک کوشش ہے؟

کیا ایسے مسائل ہیں جن پر تین طویل اجلاسوں میں ابھی تک بظاہر سست روی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔ اس روڈ میپ کی حتمی شکل سامنے آنے میں شاید وقت لگے لیکن کیا افغان اور امریکی اس کا اس وقت تک انتظار کرسکتے ہیں؟ اسلام آباد میں سفارتی اہلکار اب تک کی پیش رفت سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے ہیں۔

حکومت پاکستان نے اس سارے عمل کی قیادت اپنے ذمہ لے کر ایک مرتبہ پھر اپنے اوپر بہت زیادہ بوجھ ڈال لیا ہے۔ کیا وہ دیگر فریقین کی امیدوں پر پورا اتر پائے گا؟

اسی بارے میں