’سیاست کیسے کیسے کھیل کھیلتی ہے‘

’بینظیر بھٹو کے قتل نے نواز شریف کو اعتدال پسند اور پختہ سوچ رکھنے والا رہنما بننے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے!‘

یہ الفاظ بھارت کی نامور صحافی اور ٹی وی اینکر برکھا دت نے پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران کہے ہیں۔

کراچی کے ساتویں سالانہ ادبی میلے میں شریک ہونے والی برکھا دت کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہیں بینظیر بھٹو کے قتل پر لاڑکانہ کا ویزا فوری مل گیا تھا مگر وہ وہاں پہنچ نہیں پا رہیں تھیں اور بالآخر انہیں میاں نواز شریف نے اپنے نجی طیارے میں لفٹ دی اور وہ ان کے ساتھ لاڑکانہ پہنچیں۔

’مجھے انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ ہل کر رہ گئے تھے۔ اس قتل نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا۔ میں دیکھ سکتی تھی۔ ایسا رسماً نہیں ہو رہا تھا۔ نا ہی وہ دکھاوا تھا۔ اور میں حیران تھی کہ سیاست کیسے کیسے کھیل کھیلتی ہے۔‘

برکھا دت بھارت کی ایوارڈ یافتہ صحافی اور ٹی وی اینکر ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی یہ جان چکے ہیں کہ ایک بھی انٹرویو دیے بغیر بھی سرخیوں میں کیسے رہا جاتا ہے۔

’نریندر مودی ایک الجھی ہوئی سیاسی شخصیت ہیں جو حیران کر دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ میاں نوازشریف کو اپنے تقریب حلف برداری میں مدعو کرنا اور دوسرا اچانک ان کی نواسی کی شادی میں رائیونڈ آمد دو ایسے فیصلے ہیں جنہوں نے ان کے مداحوں اور ان پر تنقید کرنے والوں کو حیرانی میں مبتلا کر دیا۔ اور دوسرا جو لوگوں کو خدشہ تھا کہ وہ ایک نظریاتی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں میں یہ تسلیم نہیں کرتی، میرا ماننا یہ ہے کہ وہ حقیقت پسند رہیں گے اور حالات کے مطابق اپنے فیصلوں کو تشکیل دیں گے۔‘

لیکن اس نپی تُلی سی تعریف کے باوجود برکھا دت کو امید نہیں ہے کہ نریندر مودی انہیں انٹرویو دیں گے۔ وہ کہتی ہیں ’ہم ایک بہت ہی مخصوص قسم کے سیاسی تضاد کا شکار ہیں۔ بھارت اس وقت میڈیا کی بھرمار کے دور سے گزر رہا ہے۔ جو میڈیا سے واقف نہیں ہے وہ سیاست میں سروائیو نہیں کر سکتا۔ لیکن سیاستدان جس قدر میڈیا سے واقف ہو رہے ہیں اتنی ہی انہیں صحافیوں کی ضرورت کم پیش آنے لگی ہے۔ اس سے میری مراد سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی ہے۔‘

برکھا دت یہ تسلیم کرتی ہیں کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے مین سٹریم میڈیا کے لوگوں کے رویے منفی ہو گئے ہیں۔ ’لوگوں کو ڈر لگنے لگا ہے کہ وہ ذہن میں جو کچھ ہے اسے کھل کے بولیں یا نہیں۔ کہیں یہ نا ہو کہ ان کے ناظرین کو کچھ برا لگ جائے اور ان کی مقبولیت میں کمی آ جائے۔‘

مین سٹریم میڈیا سرحد کے دونوں جانب جو کردار ادا کر رہا ہے اس پر برکھا دت رضامند نہیں ہیں۔ ملک کی سب سے بڑی صحافی اور ذمہ دار اینکر ہونے کے باوجود وہ کہتی ہیں ’بھارت اور پاکستان کے درمیان بامقصد بات چیت کو میڈیا سے دور رہنا چاہیے کیونکہ جب وہ کیمرہ کے سامنے آ جاتی ہے تو سیاستدانوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے!‘

پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے درمیان وجہ تنازع، کشمیر سے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے برکھا دت کہتی ہیں ’بھارت کے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جنرل راحیل شریف طالبان کےخلاف تو لڑ رہے ہیں مگر حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر جیسے افراد پر کریک ڈاؤن کب ہو گا۔ کشمیر کا تنازع حل طلب ہے اور اب دہشت گردی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔‘

بھارت میں حال ہی میں اٹھنے والی عدم رواداری اور ہندو انتہا پسندی کی تحریک کو یکسر مسترد کرتے ہوئے برکھا دت نے بھارت کی جو تصویر پیش کی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت میں سب اچھا ہے۔

برکھا دت کے مطابق ’یہ غلط فہمی پتہ نہیں کیوں ہوگئی ہے۔ یہ سیاسی تذکرے ہیں جنہیں بڑھا چڑھا کر پیش کیاجا رہا ہے۔ مجھے شیو سینا سے اختلاف ضرور ہے مگر شیو سینا نے اجمل قصاب کو پاکستان میں لوگوں کو قتل کرنے کے لیے نہیں بھیجا تھا۔ میں کسی ایسے ہندوستانی کو نہیں جانتی جس نے پاکستان کے بارے میں کبھی ایسا کہا ہو۔‘

پاکستان اور بھارت کے تعلقات اور سیاسی اتار چڑھاؤ پر گہری نظر رکھنے والی برکھا دت کہتی ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی افق پر بہت مشابہت پائی جاتی ہے۔ موروثی سیاست سرحد کے دونوں جانب اس وقت ناکام ہے۔ اور سیاسی جماعتوں کا سماجی اعتدال پسندی کا نعرہ اب ان کے ووٹرز کے لیے کافی نہیں ہے۔ ایسی جماعتوں کی جگہ دونوں ہی ملکوں میں اپنے پاؤوں پر خود کھڑے ہونے والے افراد لے چکے ہیں۔

کراچی کے سالانہ ادبی میلے میں برکھا دت کی کتاب ’This Undisputed Land: Stories from India’s fault lines‘ کی رونمائی بھی کی گئی۔ میلے کے منتظمین کے مطابق برکھا دت کی کتاب اس میلے میں سب سے زیادہ فروخت ہوئی ہے۔