کوہ نور ہیرے کی واپسی، درخواست سماعت کے لیے منظور

تصویر کے کاپی رائٹ PA

عرصہ دراز سے ملکہ برطانیہ کے تاج کی زینت بننے والے کوہ نور ہیرے کی پاکستان واپسی کے لیے دائر ایک درخواست سماعت کے لیے منظور کی گئی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ نے ہیرے کی واپسی کے لیے دائر درخواست پر لگائے گئے اعتراضات کو ختم کرتے ہوئے اس کو قابل سماعت قرار دے دیا ہے۔

کوہ نور ہیرے کی واپسی کے لیے درخواست ایڈووکیٹ اقبال جعفری نے دائر کی ہے۔ جس میں پاکستان اور پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔

ایک ہیرے کے دو دعوے دار

لاہور ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے یہ اعتراض لگا کر درخواست واپس کر دی تھی کہ معاملہ عدالت عالیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔

تاہم اب جسٹس خالد محمود نے پیر کو اعتراض کو ختم کرتے ہوئے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔

صحافی عبدالناصر خان کے مطابق درخواست گزار اقبال جعفری نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ برطانوی فورسز نے سنہ 1849 میں پنجاب کے سکھ حکمران رنجیت سنگھ کے بیٹے دلیپ سنگھ سے یہ ہیرا قبضے میں لیا اور اسے پہلے لاہور میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد ازاں اس کو برطانیہ منتقل کردیا تھا۔

اقبال جعفری کے مطابق کوہ نور ہیرا پنجاب کے ثقافتی ورثے کا حصہ ہے جسے چھینا گیا ہے اور ملکہ برطانیہ کو کوئی قانونی حق حاصل نہیں کہ وہ اس ہیرے کو اپنے تاج کا حصہ بنائیں۔

عدالت نے درخواست سماعت کے لیے تو منظور کر لی ہے تاہم سماعت کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔

اسی بارے میں