مہتاب خان مستعفی کیوں ہوئے؟

Image caption رحیم اللہ یوسف زئی کا خیال ہے کہ فاٹا اور کے پی کے کے نازک حالات کے باوجود گورنر مہتاب عباسی کا استعفیٰ کوئی منفی اثرات مرتب نہیں کرے گا

گورنر خیبر پختونخواہ سردار مہتاب خان عباسی پیر کو صحافیوں کو دیے جانے والے ظہرانے سے اپنے خطاب میں اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔

خیبر ٹی وی سے وابستہ تجزیہ نگار کالمسٹ سلیم سیٹھی بتاتے ہیں کہ ’ظہرانے سے کچھ ہی دیر قبل یہ پیغامات ملنے شروع ہو گئے تھے کہ گورنر مستعفی ہو رہے ہیں اور پھر گورنر نے کسی صحافی کے پوچھنے سے پہلے ہی اپنی تقریر کے اختتام پر ذاتی وجوہات کی بنا پر مستعفی ہونےکااعلان کر دیا۔‘‘

22 ماہ تک اپنے عہدے پر رہنے والے گورنر مہتاب خان عباسی کے استعفے کی وجہ کیا واقعی ذاتی وجوہات ہیں یا پھر کچھ اور؟

سینیئر صحافی اور تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسف زئی کا خیال ہے کہ فاٹا اور کے پی کے کے نازک حالات کے باوجود گورنر مہتاب عباسی کا استعفیٰ کوئی منفی اثرات مرتب نہیں کرے گا کیونکہ اب فاٹا میں آپریشنز کے باعث وہاں فوج کا عمل دخل زیادہ ہے اور گورنر کی حیثیت ماضی جیسی نہیں رہی۔

وہ کہتے ہیں کہ ’گورنر کا اوسط دور دو سال ہی ہوتا ہے اور مہتاب خان عباسی نے یہ تقریباً پورا کر ہی لیا ہے، وہ کافی زیرک سیاست دان ہیں، وہ اب سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں اور پھر چیئرمین سینٹ اور پھر صدرِ پاکستان کے عہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔‘

تاہم ڈان اخبار سے وابستہ سینئیر صحافی اور تجزیہ نگار اسماعیل خان کہتے ہیں کہ’ بتایا تو گیا ہے کہ ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفی دیا گیا ہے مگر یقینی طور پر خدشات رہے ہیں گورننس کے حوالے سے بھی اور اصلاحات کے حوالے سے بھی کہ ان پر کام نہیں ہورہا۔‘

سلیم سیٹھی نے بتایا کہ اپنی تقریر میں گورنر صاحب نے اپنی گورنرشپ کی دو سالہ کارکردگی پر تفصیلی بات چیت کی جس میں ’ زیادہ تر حکومت کے روزمرہ کاموں کا ذکر کیا تاہم سوائے لیویز میں خواتین کی بھرتیوں کے کسی اور غیر معمولی اقدام کا تذکرہ سنائی نہیں دیا اور نہ ہی انھوں نے یہ بتایا کہ فاٹا اصلاحات کے حوالے سے گورنر کے آفس کی جانب سے کیا خاص تجویز دی گئی ہے۔‘

سردار مہتاب خان عباسی نے اپنا استعفیٰ وزیراعظم کو بھجوا دیا ہے مگر اب اس خبر کا انتظار کیا جا رہا ہے کہ نیا گورنر کون ہوگا؟

اس ضمن میں چند نام لیے جارہے ہیں جن میں ریٹائرڈ فوجی جرنلز کے علاوہ سیاست دانوں کے نام بھی شامل ہیں۔ جن میں حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے پیر صابر شاہ کے علاوہ سینیٹر ظفر اقبل جھگڑا اور لیفٹیننٹ جنرل(ر) سنینٹر صلاح الدین ترمزی اور جنرل احسان الحق کا نام لیاجا رہا ہے۔

رحیم اللہ یوسف زئی کا خیال ہے کہ ’اگر وزیراعظم کی مرضی مانی گئی تو وہ اپنا بندہ لے کر آئیں گے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ پیر صابر شاہ سے زیادہ مضبوط پوزیشن ظفر اقبل جھگڑا کی ہے۔ جو سینیٹر بھی بن چکے ہیں اور پشتو زبان کی شد بد بھی رکھتے ہیں اور اگر فوجی شخصیت کی بات کی جائے تو جنرل احسان الحق اسی علاقے کے رہنے والے ہیں۔‘

سلیم سیٹھی سمجھتے ہیں کہ ’کسی ریٹائرڈ جنرل کی تقریری کی ایک اہم وجہ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے فاٹا اصلاحات کے لیے بنائی گئی کمیٹی میں گورنر کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ کی ہم خیال شخصیت کا اضافہ بھی ہوسکتی ہے جس میں پہلے ہی دو سابق فوجی بحیثیت ممبر موجود ہیں۔‘

اسماعیل خان کا کہنا ہے کہ ’ مخصوص طبقہ سمجھتا ہے کہ ریٹائرڈ فوجی آجائے، جو سیاسی لیڈر کے برعکس فوج کے ساتھ زیادہ بہتر طریقے سے کام کر سکے۔‘

اسی بارے میں