ملازمین کو نوٹس، ’مذاکرات نثار، شہباز سےہو سکتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی قومی فضائی کمپنی پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے 78 ملازمین کو لازمی سروس ایکٹ کی خلاف ورزی پر اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کیے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان نے یکم فروری کو پی آئی اے کے ملازمین کے لیے لازمی سروس ایکٹ 1952 نافذ کیا تھا جس کے تحت ہڑتال کرنے والے ملازمین کو نوکری سے فارغ کیا جا سکتا ہے اور انھیں سزا بھی ہو سکتی ہے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار طاہر عمران نے بتایا کہ ہوابازی ڈویژن کے ایک اعلیٰ اہلکار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اب تک جن ملازمین کو اظہارِ وجوہ کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں ان میں اسلام آباد، کراچی، فیصل آباد، ملتان اور لاہور کے ملازمین شامل ہیں۔

انھوں نے مزید بتایا کہ پی آئی اے حکومت کو جواب دہ ہے کہ لازمی سروس ایکٹ کے نافذ کیے جانے کےباجود اس کی خلاف ورزی پر پی آئی اے نے کیا کارروائی کی ہے اور اس پر کیا ایکشن لیا گیا ہے۔

مزید کارروائی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اب ان ملازمین کی جانب سے جواب موصول ہونے کے بعد مزید اقدامات پر بات کی جا سکتی ہے۔

اس ایکٹ کے تحت کسی بھی ملازم کو سزا دی جا سکتی ہے جو:

  1. دورانِ ملازمت کسی بھی قسم کے قوانین کے مطابق حکم کے منافی عمل کرے یا دوسروں کو اس پر عمل نہ کرنے کی ترغیب دلائے۔
  2. بغیر کسی جائز وجہ کے اپنے کام کو چھوڑ دے، یا کام سے غیر حاضر ہو جائے، یا کام کرنے سے انکار کر دے، یا کام کرتا رہے۔
  3. سیکشن ون کے تحت حکم جاری کرنے والے کی اجازت کے بغیر کسی ایسی جگہ سے ہٹے جہاں سے ہٹنے سے منع کیا گیا ہو۔

ان کی خلاف ورزی پر ایک سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب پی آئی اے کے پائلٹوں کی ایسوسی ایشن کے صدر عامر ہاشمی نے پاکستان ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پائلٹ تیار ہیں مگر پائلٹ ہی صرف درکار نہیں ہوتے بلکہ جہاز اڑانے کے لیے دوسرا عملہ بھی چاہیے ہوتا ہے۔

عامر ہاشمی نے مزید کہا کہ ’مجھے امید ہے کہ آج رات تک معاملات حل ہو جائیں گے، لیکن اگر نہیں ایسا نہ ہوا، تو معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جا سکتے ہیں۔‘

ملازمین کی جانب سے لچک

کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ پی آئی اے کا فضائی آپریشن جزوی طور پر بحال ہوگیا ہے اور انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ 20 پروازیں متحرک ہوگئی ہیں جبکہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے چار ساتھیوں کی بازیابی کے بعد حکومت سے مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔

پی آئی اے کے چار ملازمین کراچی ہدایت اللہ، ضمیر چانڈیو، منصور اور سیف اللہ دو فروری سے لاپتہ تھے جنہیں گذشتہ شب ناگن چورنگی کے قریب چھوڑ دیا گیا۔ اس سے قبل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے ڈی جی رینجرز میجر جنرل بلال اکبر سے بھی ملاقات کی تھی۔

جوائنٹ ایکشن کمٹی کے رہنما سہیل بلوچ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی تحریک سے دستبردار نہیں ہوئے۔ ساتھیوں کی بازیابی کے بعد انہوں نے ٹرمینل کی جانب مارچ کا فیصلہ منسوخ کر دیا ہے۔

’ہمارے ساتھوں کو اس ریلی کے وقت سے پہلے ہی جن اداروں اور جن لوگوں نے اغوا کیا تھا صبح چار بجے آنکھوں پر پٹیاں باندہ کر ناگن چورنگی پر چھوڑ دیا ہے۔ جس کے بعد ہم نے ریلی منسوخ کردی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سہیل بلوچ نے واضح کیا کہ ان کا حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے، سوائے اس کے پی آئی اے کی نجکاری سے وہ اتفاق نہیں کرتے وہ کسی بھی صورت میں اپنی حکومت کو بلیک میل نہیں کرنا چاہتے۔

’ہمارا مطالبہ تھا کہ وزیر اعظم مذاکرات کریں لیکن ان کی مصروفیات کو دیکھتے ہوئے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مذاکرات کے لیے وہ کسی ایسی شخص کو مختص کریں جنہیں ان کی مکمل حمایت حاصل ہو۔ اگر حکومت مذاکرات کرنا چاہتی ہے تو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار یا وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی قیادت میں مذاکرات ہوسکتے ہیں۔‘

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے ہڑتال کی وجہ سے متاثر ہونے والے شہریوں سے معذرت کا اظہار کیا اور عمرہ زائرین کو سعودی عرب لے جانے کے لیے ایک پرواز چلانے کی مشروط پیش کش کی۔

دوسری جانب پی آئی اے کی ترجمان دانیال گیلانی کا کہنا ہے کہ رات گئے سے پی آئی اے کا فلائٹ آپریشن بحال ہوچکا ہے اور اس کے بعد سے تقریباً 20 فلائٹس متحرک ہوچکی ہیں جس میں نو اسلام آباد، پانچ لاہور اور چھ جدہ سے روانہ ہوئی ہیں۔

دوسری جانب پی آئی اے کے پائلٹس کی ایسوسی ایشن کے صدر عامر ہاشمی نے پاکستان ٹیلی وژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پائلٹس تیار ہیں مگر پرواز کے لیے صرف پائلٹس ہی درکار نہیں ہوتے ایک پرواز کے لیے دوسرا عملہ بھی چاہیے تھا۔

اسی بارے میں