جنوبی ایشیا میں موبائل کے ذریعے ادائیگیوں میں پاکستان سرفہرست

تصویر کے کاپی رائٹ

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیا کے ممالک میں پاکستان میں موبائل کے ذریعے رقم بھیجنے یا منگوانے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔

عالمی بینک کے گلوبل فائنڈیکس ڈیٹا بیس کے مطابق سنہ 2014 میں جنوبی ایشیا میں اوسطً تین فیصد افراد موبائل کے ذریعے بینکنگ کرتے ہیں۔

گلوبل فائنڈیکس ڈیٹا بیس میں مختلف ملکوں کے عوام میں مالیاتی خدمات، بچت، قرضے، ادائیگیوں کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ تحقیق کے لیے مختلف عمر، ملکوں اور شعبوں سےتعلق رکھنے والے افراد سے انٹرویو کیا گیا۔

عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں 9 فیصد مرد موبائل کے ذریعے رقوم منگواتے ہیں جبکہ خواتین موبائل بینکنگ کی شرح دو فیصد ہے۔

پاکستان کے پڑوسی ملک بھارت میں محض ایک فیصد خواتین موبائل بیکنگ استعمال کرتی ہے جبکہ تین فیصد مرد موبائل کے ذریعے ادائیگیاں اور وصولیاں کرتے ہیں۔

بنگہ دیش میں بھی یہ شرح کم ہے اور دو فیصد بنگلہ دیشی خواتیں اور تین فیصد مرد موبائل بیکنگ استعمال کرتے ہیں۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ جنوبی ایشیائی خطے میں مجموعی طور پر خواتین میں موبائل بیکنگ استعمال کرنے کی شرح 1 فیصد اور مردوں میں چار فیصد ہے۔

گلوبل فائینڈیکس ڈیٹابیس کے مطابق دنیا بھر کی 62 فیصد آبادی کے بینک اکاونٹس ہیں اور عالمی سطح پر محض ایک فیصد آبادی کا کہنا ہے کہ وہ موبائل پیسے کا اکاونٹ استعمال کرتی ہے۔

لیکن نیم صحرائی افریقی خطے میں 12 فیصد بالغ افراد کے پاس موبائل پیسہ اکاونٹ ہے۔

رپورٹ کے مطابق نجی شعبے اور سرکاری سطح پر اجرتوں کی ادائیگی نقدی کے بجائے بینک اکاونٹس کے ذریعے کرنے کی وجہ سے بھی بینک اکاونٹس کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں 65 فیصد افراد ایک ماہ میں کم سے کم تین مرتبہ اپنا اکاونٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک کے تقریباً ایک ارب 30 کروڑ افراد اپنا بجلی اور پانی کا بل بینک اکاونٹ کے ذریعے جمع کرواتے ہیں۔

اسی بارے میں