قطر سےگیس درآمد کرنے کا معاہدہ طے پاگیا

تصویر کے کاپی رائٹ APP
Image caption معاہدے پر وزیر پٹرولیم اور قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی اور چیئرمین قطر گیس بورڈ سعد شریدا نے دستخط کیے

پاکستان اور قطر کے درمیان ایل این جی کی درآمد کا کئی ارب ڈالر کی مالیت کا معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت پاکستان 16 برسوں تک ملک کی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے گیس خرید سکے گا۔

سرکاری خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق درآمد شدہ قدرتی گیس سے 16 سال کی ملکی کی توانائی کی ضرورتوں کو پورا کیا جاسکے گا۔

اے پی پی کے مطابق بدھ کو قطر کے دارالحکومت دوحا میں 16 ارب ڈالر کا معاہدہ پاکستان کی وزارت پیٹرولیم اور قدرتی وسائل اور قطر پٹرولیم کے درمیان طے پایا ہے۔

معاہدے پر وزیر پٹرولیم اور قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی اور چیئرمین قطر گیس بورڈ سعد شریدا نے دستخط کیے۔

اس موقع پر وزیراعظم محمد نواز شریف اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد بن خلیفہ الثانی بھی موجود تھے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق حکومت نے ملک میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی کی درآمد کا معاہدہ کیا ہے۔

معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ قطر کے ساتھ ایل این جی کا معاہدہ پاکستان کے لیے بہت اہم ثابت ہوگا۔

شاہد خاقان عباسی کے مطابق معاہدے کے تحت 37 لاکھ ٹن سے زائد ایل این جی مناسب قیمت پر سالانہ درآمد کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے سے 2000 میگا واٹ کے بند یونٹس کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

خیال رہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے جولائی 2013 میں وزارت پٹرولیم کو حکومتی سطح پر قطر گیس کے ساتھ ایل این جی کے درآمد کے حوالے سے مذاکرات کا اختیار دیا تھا۔

سرکاری خبررساں ادارے کے مطابق قطر سے درآمد کی جانے والی گیس ایران پاکستان گیس پائپ لائن اور ترکمانستان افغانستان پاکستان بھارت پائپ لائن سے حاصل ہونے والی گیس سے کم قیمت ہوگی۔

اسی بارے میں