’صرف سکیورٹی کیمرے لگانے ہی کافی نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Viqar unnissa College
Image caption ہمیں ساڑھے دس سے پونے گیارہ بجے کے درمیان کنٹرول روم سے بتایا گیا کہ ٹیپو روڈ پر واقع وقارالنسا کالج و سکول پر حملے کی اطلاع ہے فوری طور پر وہاں پہنچیں: ریسکیو 1122

پنجاب کے شہر راولپنڈی میں واقع وقار النسا کالج و سکول پر دہشتگردوں کے مبینہ حملے کی خبر کے بعد رابطہ کرنے پر کالج میں پروفیسر نے بتایا کہ ’میں کلاس میں لڑکیوں کو پڑھا رہی تھی کہ اچانک باہر سائرن کی آوازیں سنائی دینے لگیں اور پھر طالبات کے بھاگنے دوڑنے اور اونچی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ پہلا خیال تو یہی آیا کہ شاید کالج میں کل ہونے والے سپورٹس ڈے اور آڈیٹوریم کی افتتاحی تقریب کی تیاریاں ہو رہی ہیں لیکن جب شور بڑھنے لگا تو باہرجانے پر طالبات نے کہا کہ بتایا جا رہا ہے کہ کالج میں حملہ ہو گیا ہے۔‘

بدھ کی صبح ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی اس بریکنگ نیوز بعد میں تو غلط ثابت ہوگئی تاہم اس نےکالج و سکول کے طلبہ و طالبات اور اساتذہ کے شدید ذہنی کرب اور خوف میں مبتلا کر دیا۔

ریسکیو 1122 کے اہلکار رفاقت زمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہمیں ساڑھے دس سے پونے گیارہ بجے کے درمیان کنٹرول روم سے بتایا گیا کہ ٹیپو روڈ پر واقع وقارالنسا کالج و سکول پر حملے کی اطلاع ہے فوری طور پر وہاں پہنچیں۔‘

واقعے کے بعد راولپنڈی پولیس کی جانب سے یہ بیان جاری کیا گیا کیا کہ پولیس چوروں کا تعاقب کر رہی تھی۔ تاہم تعلیمی ادارے کے باہر دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ ’کالج کے قریب چوروں نے پولیس پر فائرنگ کی، فائرنگ کی آواز سن کر کالج انتظامیہ نے پولیس کو مطلع کیا۔‘

پولیس اہلکار کے مطابق چند بچیوں کوبھگدڑ مچنے کے باعث پاؤں میں چوٹیں بھی آئیں جبکہ کالج کی پروفیسر کا بھی کہنا ہے کہ چند طالبات زخمی ہوئیں۔

بعد ازاں کالج انتظامیہ کی جانب سے بھی ایک تحریری بیان جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا کہ ’پروفیسر سائرہ مفتی اس خبر کی سختی سے تردید کرتی ہیں کہ کالج میں کسی قسم کی کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہوئی۔ کالج میں سائرن کی آواز سنی گئی جس سے افراتفری پھیلی۔ انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کی بروقت کارروائی سے صورتحال پر قابو پا لیا گیا۔‘

کالج سے وابستہ سینیئر پروفیسر نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ یہ ایک افواہ تھی تاہم اس کی وجہ سے آج یہ واضح ہوگیا ہے کہ صرف سکیورٹی کیمرے لگانے یا ایگزٹ گیٹ لگانے سے ہم کسی بھی ہنگامی صورتحال اور حملے سے نمٹنے کے اہل نہیں ہو سکتے۔ ’طالبات کو بنیادی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد ایک بار بچوں کو ڈرل کروائی گئی جو کہ ناکافی ہے۔‘

اسی بارے میں