پشاور میں ڈاکٹروں کی ہرتال چوتھے روز بھی جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption احتاجی ڈاکٹروں نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں باہر کیمپ میں مریضوں کے معائنے کیے

پشاور میں صوبائی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ڈاکٹروں کی جزوی جبکہ پیرا میڈیکل سٹاف اور کلاس فور ملازمین کی مکمل ہڑتال آج چوتھے روز بھی جاری رہی ہے، تاہم حکومت نے اب احتجاجی ملازمین کو مذاکرات کے لیے طلب کر لیا ہے۔

پشاور کے تین بڑے ہسپتالوں میں موجود پیرا میڈیکل سٹاف اور دیگر عملے کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسیاں صحت کے شعبے کے لیے مناسب نہیں ہیں اور یہ کہ اصلاحات کے نام پر ہسپتالوں کو نجی تحویل میں دیا جا رہا ہے ۔

اس ہڑتال کے بارے میں ڈاکٹر تقسیم نظر آئے ہیں۔ ’ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن‘ اس ہڑتال میں آئے تھے جبکہ پراونشل ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے رہنما اس ہڑتال کی حمایت نہیں کر رہے ۔

پشاور کے تین بڑے تدریسی ہسپتالوں میں آج ایمر جنسی سروس جاری رہی جبکہ میڈیکل افسران او پی ڈی مریضوں کا معائنہ کرتے رہے۔

احتاجی ڈاکٹروں نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال اور لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں باہر کیمپ میں مریضوں کے معائنے کیے ۔ صوبے کے دیگر شہروں میں بھی جزوی ہڑتال رہی۔

پیرا میڈیکل سٹاف اور کلاس فور ملازمین کا کہنا تھا کہ ان اصلاحات میں ان کے لیے کوئی الاؤنس کا اعلان نہیں کیا گیا ۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں موجود پیرا میڈیکل سٹاف ایسوسی ایشن کے سینیئر نائب صدر شیر عالم نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جو الاؤنس ڈاکٹروں کو دے رہے ہیں اسی طرح پیرا میڈیکل سٹاف کا بھی حق ہے کہ انھیں بھی دیے جائیں۔

Image caption پشاور کے تین بڑے ہسپتالوں میں موجود پیرا میڈیکل سٹاف کا کہنا تھا کہ حکومت کی پالیسیاں صحت کے شعبے کے لیے مناسب نہیں ہیں

اس کے علاوہ انھوں نے کہا کہ وہ ڈیڑھ سال سے وزیر صحت اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقات کے لیے کوششیں کر رہے لیکن مجبور ہو کر ہڑتال شروع کی ہے۔

ان ملازمین نے کہا کہ اگر انھیں الاؤنس دے دیا جائے تو احتجاج ختم کر سکتے ہیں۔

حکومت کی جانب سے آج پیرا میڈکل سٹاف اور کلاس فور ایسوسی ایشن کے ایسے آٹھ عہدیداروں کے تبادلے کر دیے ہیں جو اس ہڑتال میں زیادہ متحرک ہیں۔

پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے اس احتجاج کی مخالفت کی ہے ۔ تنظیم کے سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر سلیم یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ حکومت کے اچھے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی ہسپتالوں میں جہاں سہولیات کا فقدان ہے اس بارے میں وہ حکومت پر تنقید بھی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ او پی ڈی میں میڈکل افسران ڈیوٹی دے رہے ہیں لیکن ان اصلاحات میں ان کے لیے کسی قسم کے الاؤنس کا ذکر نہیں ہے۔

یہاں ایسی اطلاعات ہیں کہ ان اصلاحات سے وہ ڈاکٹر زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں جن کی نجی پریکٹس بہتر ہے اور وہ ہسپتالوں میں ڈیوٹی کم ہی دیتے ہیں۔

تحریک انصاف کی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات غریب عوام کو بہتر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں