طالبہ کی خودکشی، وزیرِ اعلیٰ نے تحقیقاتی کمیٹی بنا دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعلیٰ نے کالج کی پرنسپل اور کلرک کو بھی تا حکمِ ثانی معطل کر دیا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب ثناء اللہ نے مسلم باغ سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ کی موت کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے۔

ثاقبہ نامی طالبہ مسلم باغ میں خواتین کے کالج میں سیکنڈ ایئر کی طالبہ تھی اور اس کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ اس نے کالج کی پرنسپل کے رویے سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کی۔

ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متاثرہ خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کالج کی پرنسپل اور کلرک کو بھی تا حکمِ ثانی معطل کر دیا ہے۔

ثاقبہ کے بھائی عزیز اللہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کی بہن نے میٹرک کے امتحان میں ضلع بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ گرلز کالج میں کوالیفائیڈ اساتذہ کی تعیناتی کے لیے کچھ عرصہ بیشتر ان کی بہن نے کوئٹہ میں دوسرے طالبات کے ہمراہ مظاہرہ کیا تھا۔

عزیز اللہ کے مطابق مظاہرے میں شرکت کرنے پر کالج کی پرنسپل نے احتجاج کرنے والی لڑکیوں کے نام خارج کر دیے تھے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ پرنسپل نے امتحان کے لیے ان کی بہن کا فارم بھی نہیں بھجوایا جس پر ثاقبہ نے دلبرداشتہ ہوکر خودکشی کی۔

کالج کی پرنسپل کا موقف جاننے کے لیے جب ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کا موبائل فون مسلسل بند ملا۔

تاہم کالج کے بعض دیگر ذرائع نے طالبہ کی خود کشی کے حوالے سے لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کی گئی ہے جو تین سے چار روز کے اندر رپورٹ پیش کرے گی ۔