’سعودی مشقوں میں پاکستانی شمولیت دفاعی تعاون کا حصہ ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption دو طرفہ معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کا ایک چھوٹا دستہ سعودی عرب میں تعینات ہے

پاکستان نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں 20 ملکوں کی افواج کی مشترکہ فوجی مشقوں میں پاکستانی افواج کی شمولیت دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کا حصہ ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے سعودی عرب کے شمالی علاقے میں ہونے والی ان فوجی مشقوں کے بارے میں پیر کی شب جاری کیے گئے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دفاع کے شعبے میں کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں جس میں فوجی مشقوں کے علاوہ تربیت کا عنصر بھی شامل ہے۔

دہشت گردی کے خلاف 34 اسلامی ممالک کا فوجی اتحاد

دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ تربیت کے مختلف پروگراموں کے تحت متعدد فوجیوں کو سعودی عرب بھجوایا جاتا ہے جبکہ اس کے علاوہ سعودی مسلح افواج کے اہلکار پاکستا ن میں بھی تربیت حاصل کرتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اسی تناظر میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے سعودی عرب میں جاری مشقوں میں دوسرے ممالک کی طرح پاکستان کی مسلح افواج بھی حصہ لے رہی ہیں۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کا ایک چھوٹا دستہ سعودی عرب میں تعینات ہے۔

واضح رہے کہ انفوجی مشقوں میں ان 34 مسلم ممالک میں سے 20 ملکوں کی افواج حصہ لے رہی ہیں جو سعودی عرب کے زیر کمان دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے اتحاد میں شامل ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ان مشقوں کو ’رعد الشمال‘ یعنی ’شمال کی گھن گرج‘ کا نام دیا گیا ہے۔

یہ فوجی مشقیں حفرالباطن کے علاقے میں کی جائیں گی تاہم ایس پی اے نے یہ نہیں بتایا کہ فوجی مشقیں کب تک جاری رہیں گی۔

ایس پی اے کے مطابق ان مشقوں میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، سینیگال، سوڈان، کویت، مالدیپ، مراکش، پاکستان، چاڈ، تیونس، کومورز، جیبوتی، عمان، قطر، ملائیشیا، مصر، موریطانیہ اور ماریشس شریک ہیں۔

سعودی عرب پچھلے کچھ عرصے سے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف اتحادی فوجی مہم کی سربراہی کر رہا ہے۔

اسی بارے میں