وزیر اعظم کے بیان پر نیب کا ردِ عمل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیر اعظم نواز شریف نے بہاولپور میں اپنے ورکرز سے خطاب ہوئے نیب کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا

قومی احتساب بیورو یعنی نیب نے منگل کے روز وزیر اعظم میاں نواز کی طرف سے اس ادارے سے متعلق دیےگئے بیان میں کے بارے میں اپنے ردعمل میں کہا کہ نیب وزیر اعظم کی رائے کا احترام کرتا ہے۔

بدھ کے روز نیب کے ترجمان کی طرف سے جاری ہونے والے مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ادارے کو کچھ قباحتیں ورثے میں ملی ہیں جن کو دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

نیب کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کی تجاویز کی روشنی میں احتساب کے عمل کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔ اس بیان میں مذید کہاگیا ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے عدم مداخلت کی وجہ سے احتساب بیورو ایک آزاد اور خود مختار ادارہ بنا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے منگل کے روز بہاولپور میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیب کے اہلکار شریف لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کو بھی ہراساں کر ر ہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اُن کی حکومت کے کام کرنے کے راستے میں مختلف رکاوٹیں، پابندیاں اور قوانین ہیں اور اس کے علاوہ ایسے ادارے ہیں جو بیچ میں کھڑے ہوئے ہیں۔

حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان حکمراں جماعت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ جب نیب نے اُن کے خلاف کارروائی کی تو سب کام قانون کے مطابق ہو رہا تھا اور جبکہ نیب نے حکمراں جماعت کے خلاف کارروائی شروع کی ہے تو اس پر شور مچایا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم کے نیب سے متعلق اس رائے کے بارے میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایف آئی اے کے اہلکار بھی نیب کی ڈگر پر چل رہے ہیں۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ وہ ایف آئی اے کی گذشتہ ڈھائی سال کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کو تیار ہیں۔

واضح رہے کہ قومی احتساب بیورو نے گذشتہ برس ملک میں بدعنوانی کے زیر تفتیش ڈیڑھ سو مقدمات کی فہرست سپریم کورٹ میں جمع کروائی تھی جس کے مطابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سمیت چار سابق وزرائے اعظم کےخلاف اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق ماضی میں شروع کی جانے والی تفتیش مختلف مراحل میں ہے۔

نیب کی طرف سے جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اپنےاختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے رائے ونڈ میں شریف خاندان کےگھر تک ساڑھے 12 کروڑ روپے کی لاگت سے سڑک تعمر کروائی تھی۔ اس کے علاوہ موجودہ وزیر اعظم پر سنہ 1999 میں وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے میں غیر قانونی بھرتیوں کا بھی الزام ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے دو سابق وزرائے اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف پر آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی میں قواعد و ضوابط سے ہٹ کر توقیر صادق کی بطور چیئرمین تعیناتی کے علاوہ کرائے کے بجلی گھروں کے ٹھیکوں میں مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات بھی ہو رہی ہیں۔