پٹھان کوٹ حملے کا مقدمہ گوجرانوالہ میں درج

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پٹھان کوٹ میں ہونے والے حملے میں بھارت کے سات فوجی ہلاک ہوئے تھے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے محکمۂ انسداد دہشت گردی کے مطابق بھارتی ریاست پنجاب کے شہر پٹھان کوٹ میں گذشتہ ماہ بھارتی فضائیہ کے اڈے پر شدت پسندوں کے حملے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

جمعے کو جاری کیے جانے والے بیان کے مطابق یہ مقدمہ 18 فروری کو گوجرانوالہ کے انسداد دہشت گردی تھانے میں پٹھان کوٹ میں حملہ کرنے والے مبینہ حملہ آوروں اور ایک کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے ان کے سہولت کاروں کے خلاف درج کیا گیا ہے۔

مقدمہ وفاقی وزارت داخلہ کے ڈپٹی سیکریٹری اعتزاز الدین کی مدعیت میں درج کروایا گیا ہے اور اس میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔

دو جنوری کو پاکستان کی سرحد سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پٹھان کوٹ میں ہونے والے حملے میں بھارت کے سات فوجی ہلاک ہوئے تھے اور چار دن تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد تمام حملہ آور بھی مارے گئے تھے۔

بھارت کی جانب سے پٹھان کوٹ حملے کا الزام کالعدم جیش محمد اور اس کے سربراہ مولانا مسعود اظہر پر عائد کیا گیا تھا اور مسلسل یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان ان کے خلاف کاروائی کرے۔

مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 324 اور 109 جبکہ انسداد دہشت گردی کی دفعات سات اور 21 شامل کی گئی ہیں۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ مقدمہ درج کیے جانے کے بعد باضابطہ طور پر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اس کیس کی تحقیقات کرے گی۔

مقدمے کی ایف آئی آر میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں کی جانب سے دی گئی معلومات کا حوالہ دیا گیا ہے جن کے مطابق دو جنوری کو چار مسلح افراد بھارت کی پٹھان کوٹ کے فضائیہ کے اڈے میں داخل ہوئے جس کے بعد ہونے والی فائرنگ میں سات بھارتی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ چاروں حملہ آور بھی مارے گئے۔

بھارت کے قومی سلامتی مشیر کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے اور انھوں نے حملے کی منصوبہ بندی بھی پاکستان میں ہی کی تھی اور ان کا تعلق ایک کالعدم تنظیم سے تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ پٹھان کوٹ پہنچ کر بھی حملہ آور پاکستان کے موبائل فون نمبروں پر بات چیت کرتے رہے، اس لیے درخواست کی جاتی ہے کہ پٹھان کوٹ حملے کا مقدمہ درج کر کے اس کی تحقیقات کروائی جائیں تاکہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ pid
Image caption پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے بھارتی حکومت کے ساتھ رابطے میں رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا تھا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بھارت کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا

اس حملے کے بعد حکومت پاکستان کی جانب سے جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو حفاظتی تحویل میں لیے جانے اور پھر ان کی افغانستان میں موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، تاہم وزارت داخلہ کی طرف سے درج کروائی گئی ایف آئی آر میں جیش محمد کا نام شامل نہیں کیا گیا۔

جمعے کو پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے لاہور میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت سے مولانا مسعود اظہر کے خلاف مزید ثبوت مانگے گئے ہیں اور اس معاملے کی باضابطہ تحقیقات شروع کی جا رہی ہیں، اور اس کے لیے جو ٹیم بنائی جائے گی اسے یہ اختیار ہوگا کہ وہ کسی سے بھی تفتیش کر سکے گی۔

’لیکن صرف نیوز کانفرنس میں کسی کا یا مسعود اظہر کا نام لینے سے تو کسی کو شامل تفتیش نہیں کیا جا سکتا۔ اگر بھارت مسعود اظہر یا کسی بھی اور شخص کے خلاف ایسا ثبوت دے گا تو ان لوگوں سے پوچھ گچھ ہو گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس حملے کے بعد بھارت نے کہا تھا کہ اس نے پاکستان کو قابلِ عمل اور ٹھوس معلومات فراہم کی ہیں

وزیر قانون کا کہنا ہے کہ ’پہلی تحقیقاتی کمیٹی غیررسمی طور پر کام کر رہی تھی۔ اس معاملے کی تحقیقات کا باضابطہ آغاز ہوگا۔ لیکن مقدمے کا اندراج حکومت پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس معاملے کی تہہ تک پہنچا جائے گا، اور یہ معلوم کیا جائے گا کہ کون لوگ ہیں جو ملک کو مشکل میں ڈالنا چاہتے ہیں، یا وہ پاکستان سے ہیں بھی یا نہیں۔‘

وزیر قانون کا کہنا تھا کہ بھارت کو بھی شکوک و شبہات سے بالاتر ہو کر اس معاملے کو دیکھنا چاہیے۔

پٹھان کوٹ حملے کے بعد پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے بھارتی حکومت کے ساتھ رابطے میں رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا تھا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بھارت کے ساتھ مکمل تعاون کیا جائے گا۔

اور اس کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان کی حکومت کو معلومات بھی فراہم کی گئی تھیں جن کی روشنی میں تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی چھ رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی۔

اسی بارے میں