پاکستان اور ترکی کے درمیان ریل رابطہ بحال کرنے کی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان ریلوے کو منافع بخش ادارہ بنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں

پاکستان اقتصادی تعاون کی علاقائی تنظیم ای سی او کے تحت ترکی سے بذریعہ ایران مال بردار ٹرین سروس بحال کرنے کے لیے بڑی شد و مد سے کوششیں کر رہا ہے۔

پاکستان کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے ریلوے حکام کے ذرائع سے خبر دی ہے کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان سنہ 2009 میں جس مال بردار ٹرین سروس کا آغاز ہوا تھا اسے بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ایران کے ذریعے ترکی تک جانے والی پہلی کنٹینر ٹرین 14 اگست 2009 میں پاکستان سے روانہ ہوئی تھی۔ یہ ٹرین سروس دسمبر 2011 تک جاری رہی۔

موجودہ حکومت نے ترکی کی ریلوے سے اس سروس کو بحال کرنے کے بارے میں 30 نومبر 2013 میں ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کا بنیادی مقصد خطے کے ملکوں کے درمیان تجارت کو فروغ دینا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان، ایران اور ترکی ریل کی پٹڑی کے ذریعے جڑے ہوئے ہیں۔ کوئٹہ اور تفتان کے درمیان 612 کلومیٹر طویل ریلوے لائن موجود ہے جو 95 کلومیٹر طویل ایک اور لائن کے ذریعے ایران کے شہر زاہدان سے جڑی ہوئی ہے۔

کوئٹہ اور زہدان کے درمیان ریلوے لائن براڈ گیج (1676 ملی میٹر) کی ہے اور زاہدان سے استنبول تک سٹینڈرڈ گیج (1435 ملی میٹر) کی لائن موجود ہے۔

کوئٹہ شہر سے پاکستان کی سرحد تک ریلوے لائن خستہ حالت میں ہے اور اسے بہتربنانا پاکستان ریلوے کے منصوبوں میں شامل ہے۔

اسی بارے میں