’پرویز مشرف کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے لال مسجد کے سابق نائب خطیب غازی عبدالرشید کے مقدمۂ قتل میں سابق صدر پرویز مشرف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

ایڈیشنل سیشن جج پرویز القادر میمن نے لال مسجد آپریشن کیس میں سابق صدر کی استثنیٰ کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیے۔

سنیچر کو اس مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ وہ پرویز مشرف کو گرفتار کر کے 16 مارچ کو عدالت میں پیش کریں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اس مقدمے کی اب تک 54 سماعتیں ہو چکی ہیں تاہم سابق صدر اس میں ایک بار بھی پیش نہیں ہوئے۔

خیال رہے کہ اس مقدمے میں پرویز مشرف کے وارنٹ گرفتاری پہلے بھی جاری کیے گئےتھے جنھیں ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیتے ہوئے بھیج دیے تھے۔

عدالت کا اس بارے میں موقف تھا کہ پرویز مشرف کے وکیل اس کیس میں عدالت کو مزید مواد فراہم کرنا چاہتے ہیں۔

یاد رہے کہ سنہ 2007 میں اسلام آباد میں واقع لال مسجد میں ہونے والے فوجی آپریشن میں مسجد کے نائب خطیب غازی عبدالرشید ہلاک ہوگئے تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جولائی سنہ 2013 میں اسلام آباد پولیس کو ہدایت کی تھی کہ سنہ 2007 میں لال مسجد پر ہونے والے فوجی آپریشن سے متعلق سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف اگر کوئی جُرم بنتا ہے تو اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

لال مسجد اور اس سے ملحقہ جامعہ حفصہ میں سکیورٹی فورسز کے جانب سے آپریشن میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اُس وقت کی حکومت کا کہنا تھا کہ مسجد میں شدت پسندوں نے پناہ لی ہوئی تھی جو کہ قانون کی عمل دراری کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔

اسی بارے میں