خیبر پختونخوا: ضمنی بلدیاتی الیکشن کے لیے پولنگ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صوبے کے 232 پولنگ سٹیشنز کو حساس اور 289 کو انتہائی حساس قرار دیاگیا ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے 23 اضلاع میں 356 بلدیاتی نشستوں پر انتخابات کے لیے پولنگ کی جار رہی ہے۔

پولنگ کا عمل اتوار کی صبح آٹھ بجے سےشروع ہوگیا ہے جو شام پانچ بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہےگا۔

بلدیاتی سیاست میں کون کس کا سگا؟

الیکشن کمیشن کے مطابق صوبے میں 356 خالی نشستوں کے لیے 828 امیدوار مد قابل ہیں جن کے لیے 609 پولنگ سٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

مجموعی طور پر چھ لاکھ 93 ہزار 502 ووٹرز اپنا رائے حق دہی استعمال کریں گے۔ صوبے کے 232 پولنگ سٹیشنز کو حساس اور 289 کو انتہائی حساس قرار دیاگیا ہے۔ جبکہ بغض علاقوں میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے ضمنی بلدیاتی انتخابات کے دوران مانیٹرنگ کے لیے ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو انتظامات اور ضابطہ اخلاق پر عمل درامد کریں گی۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 574 نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جبکہ اقلیتوں کے دو نشستوں پر چار امیدوار میدان میں ہے تاہم اقلیتوں کے لیے مختص بیشتر نشستیں خالی رہ گئی ہیں جن کے بارے میں بلدیات کے صوبائی وزیر عنایت اللہ نے بتایا ہے کہ ان نشستوں سے متعلق قانون میں ترمیم کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سوات میں خواتین اور اقلیتوں کی یونین اور ویلج کونسلوں کی 240 نشستوں کے لیے کوئی امیدوار میدان میں نہیں آیا

صحافی انور شاہ کے مطابق بتایاگیا ہے کہ ضلع شانگلہ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران پولنگ نہیں ہورہی کیونکہ اس ضلعے میں نو نشستیں خالی رہ گئی تھیں جن کے لیے نو امیدواروں نے ہی کاغذات جمع کرائے تھے جو بلا مقابلہ منتخب ہوگئے ہیں۔

ضلع دیر لوئر میں ووٹر لسٹوں کے گم ہونے پر دو تحصیلداروں سرن زیب اور غلام سعید سمیت دفتر کے پانچ اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں جبکہ پولنگ سٹیشنوں کو نئی ووٹر لسٹیں فراہم کی گئی ہیں۔

سوات میں خواتین اور اقلیتوں کی یونین اور ویلج کونسلوں کی 240 نشستوں کے لیے کوئی امیدوار میدان میں نہیں آیا تاہم ضلعے کی چھ یونین کونسلوں میں 347 نشستوں کے لیے 107 امیدوار میدان میں ہیں۔

اسی بارے میں